پنجاب اسمبلی : ٹریفک چالان اور سٹیمپ ڈیوٹی میں کمی کے ترمیمی بل منظور
سٹیمپ ڈیوٹی 3سے کم کرکے ایک فیصدکردی گئی،اوورسپیڈ کے علاوہ تمام ٹریفک چالان کے جرمانوں میں کمی کی گئی سات اہم ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور ،اقلیتوں کو دئیے چیک باؤنس ہونے پر سپیکر نے آج رپورٹ مانگ لی
لاہور (سیاسی نمائندہ)حکومت پنجاب نے غیر منقولہ جائیداد کے شعبے کو ریلیف دینے کیلئے سٹیمپ ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کر کے 1 فیصدکردی ،جس کیلئے پنجاب اسمبلی نے اسٹامپ (ترمیمی)بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا جبکہ پنجاب اسمبلی نے صوبائی موٹر وہیکل (چوتھی ترمیم)آرڈیننس 2025بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانوں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ آرڈیننسزکی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے ، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن جائیں گے ۔منظور شدہ اسٹامپ (ترمیمی)بل 2026 کے تحت اسٹامپ ایکٹ 1899 میں ترامیم کی جائیں گی اور شہری و دیہی علاقوں میں سٹیمپ ڈیوٹی کو یکساں سطح پر لایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد جائیداد کے لین دین میں آسانی اور یکسانیت پیدا کرنا ہے ۔ ترامیم کے ذریعے قابلِ منتقلی معاہدے کو بھی قانون کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے تاکہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے ۔
یاد رہے کہ اس حوالے سے گورنر پنجاب پہلے ہی 10 اپریل کو آرڈیننس جاری کر چکے ہیں جو 90 روز کیلئے نافذ العمل ہے ۔صوبائی موٹر وہیکل (چوتھی ترمیم) آرڈیننس 2025 کے تحت موٹر سائیکل کے بعض چالان 2 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے کر دئیے گئے جبکہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ 2 ہزار روپے مقرر ہوگا۔ رکشوں ،کار،جیپ ،لگژری،مزدا، کوسٹرز اور دیگر لائٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے جرمانوں میں بھی کمی کی گئی ہے تاہم اوور سپیڈنگ کے جرمانوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اقلیتی برادری کیلئے جاری امدادی چیکس باؤنس ہونے کا معاملہ سامنے آنے پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ حکومتی رکن طاہر پرویز نے ایوان میں متعدد چیکس پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ چیکس جاری ہونے کے باوجود کیش نہیں ہو سکے ۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے مختلف مسائل اٹھائے ، جن میں ملازمین کی ممکنہ برطرفیاں، اقلیتی فنڈز میں بے ضابطگیاں اور اقلیتی آبادیوں کی خراب صورتحال شامل تھیں۔ پارلیمانی سیکرٹری سونیا عاشر نے اقلیتی فلاح کے نظام میں بہتری کی ضرورت کا اعتراف کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ایوان نے اس دوران سات اہم ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کئے ، جن میں سوشل سکیورٹی، پبلک سیکٹر یونیورسٹیز، پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی، موٹر وہیکل اور جنگلات سے متعلق قوانین شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی بھی کی گئی تاہم حکومت نے مطلوبہ تعداد پوری کر لی۔
دریں اثنا پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے دو سال مکمل ہونے پر ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین کی قرارداد بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ حکومتی رکن احسن رضا کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کو سراہا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور حکومت نے قلیل عرصے میں متعدد فلاحی اور ترقیاتی منصوبے شروع کئے ، جن میں اپنی چھت اپنا گھر سکیم، دھی رانی پروگرام، ہمت کارڈ، ستھرا پنجاب مہم اور کسانوں کیلئے گرین ٹریکٹر سکیم شامل ہیں۔کارروائی مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس 23 اپریل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔