خیبر پختونخوا اسمبلی کا سٹیڈیم میں اجلاس، اے این پی کا بائیکاٹ : عمران کے کیسز کی فوری سماعت کی قرارداد منظور

خیبر پختونخوا اسمبلی کا سٹیڈیم میں اجلاس، اے این پی کا بائیکاٹ : عمران کے کیسز کی فوری سماعت کی قرارداد منظور

عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی ، افغانستان کی صورت حال اور مہنگائی کیخلاف بھی قراردادیں منظور صوبائی حکومت آئے روز کوئی نا کوئی نیا ڈرامہ رچار ہی،اے این پی اس کا حصہ نہیں بنے گی ، میاں افتخار

پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )عمران خان سٹیڈیم میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس، اے این پی کا بائیکاٹ ،شدید تنقید ، صوبائی صدر اے این پی میاں افتخار نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت آئے روز کوئی نا کوئی نیا ڈرامہ رچار ہی ہے ، عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں جبکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی اس ڈرامہ بازی کا حصہ نہیں بنے گی اور اس اجلاس کا مکمل بائیکاٹ کرے گی۔ سٹیڈیم میں ہونے والے اسمبلی اجلاس میں بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کے مقدمات کی فوری سماعت کی قرار داد پیش کی گئی جسے منظور کر لیا گیا ، ایوان نے بانی کی ملاقاتوں پر پابندی ، افغانستان کی صورت حال اور مہنگائی کیخلاف بھی قراردادیں منظور کرلیں ۔ پشاور کے عمران خان سٹیڈیم میں سپیکر بابر سواتی کی صدارت میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد ایوان کی کارروائی دیکھنے آئی تو سٹیڈیم کے دروازے بند کردئیے گئے۔

صوبائی اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے مقدمات کی فوری سماعت کی قرارداد اکثریت سے منظور کرلی۔ رائے شماری کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی۔کے پی اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقات پر عائد پابندی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف بھی قرارداد اکثریت سے منظور کرلی۔یہ قرار داد حکومتی رکن افتخار اللہ جان نے پیش کی ۔حکومتی رکن اسمبلی طفیل انجم کی جانب سے افغانستان کی صورتحال پر قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں تاکہ غلط فہمی کا خاتمہ ہو سکے ، دونوں ممالک کے مابین تجارت کو جلد بحال کیا جائے ۔

افغانستان سے بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرے ۔ حکومتی رکن اسمبلی ڈاکٹر امجد نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت پٹرول کی قیمت پر کنٹرول کرئے میں ناکام ہوچکی ہے ۔عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہو چکی ہیں۔ عالمی مارکیٹ کی قیمت کے تناسب سے قیمت کم کی جائے ۔اپوزیشن رکن احمد کنڈی نے کہا کہ ہم ڈاکٹر امجد علی کی قرارداد کی حمایت کرتے ہیں، اس وقت 1500 ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پٹرول پر لیوی160 روپے عوام سے وصول کی۔ایوان نے ڈاکٹر امجد علی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں