اسلام آباد میں سکیورٹی پابندیاں، مشکلات کے باوجود ملکی وقار سے شہری مطمئن
مارکیٹیں سنسان،سرکاری ملازمین گھر سے کام کر رہے ،طلبا کی آن لائن کلاسز ،کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن وقت ضائع ہوتا ہے ،ٹرانسپورٹ کرائے بڑھ گئے لیکن خوشی ہے کہ ملک مثبت کام میں حصہ لے رہا :شہری لوگ مزید مشکلات کیلئے بھی تیار،ہم چھوٹی قربانی دے رہے تاکہ بڑی قربانی سے بچا جا سکے :ڈاکٹر عمر حسنین
اسلام آباد (اے ایف پی) امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح مذاکرات کی میزبانی کے لیے اسلام آباد میں بدھ کو بھی سخت سکیو رٹی اور پابندیاں برقرار رہیں۔ مشکلات کے باوجود ملکی وقار سے شہری مطمئن ہیں ۔شہر میں مارکیٹیں سنسان رہیں، سرکاری ملازمین نے گھر سے کام کیا، بچے آن لائن کلاسز میں شریک ہوئے ، اور سکیو رٹی فورسز نے مذاکراتی مقام کے اردگرد موجود وسیع ریڈ زون میں داخلے پر سخت پابندیاں جاری رکھیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی بدھ کی صبح آمد متوقع تھی، لیکن وائٹ ہاؤس نے اچانک منصوبہ تبدیل کر دیا۔ اسی طرح ایران کے وفد نے بھی مذاکرات میں شرکت کے بارے میں فیصلہ مو خر کر دیا۔
اسلام آباد کے کئی رہائشی امید کر رہے تھے کہ یہ مذاکرات شہر میں جاری سڑکوں کی بندش اور دیگر پابندیوں کو ختم کریں گے ، کیونکہ کئی علاقے تقریباً لاک ڈاؤن کی صورتحال میں ہیں۔ابتدائی طور پر لوگوں میں یہ خوشی تھی کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اہم مقام مل رہا ہے ، لیکن اب کئی ہفتوں کی مسلسل پابندیوں کے بعد عوام کی برداشت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ایک شہری نے کہا کہ اسے یہ صورتحال بہت تنگ کرتی ہے کیونکہ اس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں۔ تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ وہ خوش ہے کہ ملک کسی مثبت کام میں حصہ لے رہا ہے ۔اسلام آباد کے لوگ پہلے بھی پابندیوں کے عادی رہے ہیں، جیسے دہشت گرد حملے ، سیاسی احتجاج اور عالمی رہنماؤں کے دورے ۔
لیکن اس بار پابندیاں زیادہ سخت اور بار بار بدلنے والی ہیں۔اس صورتحال نے خاص طور پر چھوٹے کاروبار والوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو شدید متاثر کیا ہے ، جن کی آمدن پہلے ہی کمزور معیشت کی وجہ سے کم ہو رہی ہے ۔ بڑے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں، اور ایک بڑی اٹک آئل ریفائنری نے ٹرانسپورٹ میں رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی ایک اہم یونٹ کی پیداوار روک دی ہے ۔اس کے باوجود بہت سے لوگ پاکستان کے اس کردار پر فخر محسوس کرتے ہیں جو وہ عالمی سطح پر اس جنگ کو ختم کرنے میں ادا کر رہا ہے ، جس میں ہزاروں جانیں جا چکی ہیں اور عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے ۔تاہم لوگ مزید مشکلات کے لیے بھی ذہنی طور پر تیار ہیں۔ایک نوجوان ڈاکٹر سید عمر حسنین شاہ نے کہاہم ایک چھوٹی قربانی دے رہے ہیں تاکہ بڑی قربانی سے بچا جا سکے۔ اس لیے ہم قربانی دیتے رہیں گے۔