پروونشل کوآپریٹو بینک سرکاری ڈیپازٹس فریم ورک میں شامل

 پروونشل کوآپریٹو بینک سرکاری ڈیپازٹس فریم ورک میں شامل

پنجاب کابینہ کی فنڈز کی بینکوں میں منتقلی بارے پالیسی میں اہم ترمیم کی منظوری پنجاب کوآپریٹو بینک کیلئے کم از کم ریٹنگ کی شرط ختم ،پالیسی میں فٹ نوٹ شامل

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) پنجاب کابینہ نے سرکاری فنڈز کی بینکوں میں منتقلی سے متعلق پالیسی میں اہم ترمیم کی منظوری دے دی ہے ، جس کے تحت پہلی مرتبہ پنجاب پروونشل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ کو بھی سرکاری ڈیپازٹس رکھنے کے فریم ورک میں شامل کر لیا گیا ہے ، دستاویز کے مطابق یہ فیصلہ ایک طویل پالیسی ارتقا ء کے بعد سامنے آیا ہے جس میں پہلے ایک بینک کو ترجیح دی گئی، پھر مقابلے کی فضا پیدا کی گئی اور اب ایک مخصوص بینک کو خصوصی رعایت دے کر شامل کیا گیا ہے ۔ دستاویز کے مطابق سال 2008 میں پنجاب حکومت نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ اپنے فنڈز بینک آف پنجاب میں منتقل کریں تاکہ بینک کو مالی بحران سے نکالا جا سکے۔

2009 میں پالیسی میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے یہ اجازت دی گئی کہ دیگر بڑے بینکوں کی پیش کردہ شرح منافع سے تقابل کیا جائے ، تاہم بینک آف پنجاب کو سب سے زیادہ شرح منافع میچ کرنے کا اختیار برقرار رکھا گیا، 2017 میں سٹیٹ بینک نے اس پالیسی پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ صرف ایک بینک کو فنڈز دینا مسابقتی اصولوں کے خلاف ہے تمام بینکوں کیلئے برابر مواقع فراہم کیے جائیں، اس کے نتیجے میں 2019 میں پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے یہ شرط رکھی گئی کہ صرف اے اے ریٹنگ والے بینکوں سے شرح منافع طلب کیا جائے ،دستاویز کے مطابق موجودہ پالیسی کے تحت صرف شیڈولڈ بینکوں اور اعلیٰ کریڈٹ ریٹنگ والے اداروں کو سرکاری فنڈز رکھنے کی اجازت تھی، جس کے باعث پنجاب پروونشل کوآپریٹو بینک اس فریم ورک سے باہر تھا کیونکہ اس کی لانگ ٹرم ریٹنگ بی بی بی پلس اور شارٹ ٹرم اے ٹو ہے ۔

بینک نے حکومت کو باضابطہ درخواست دی کہ اسے بھی فنڈز پلیسمنٹ میں شامل کیا جائے ،دستاویز کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر تجویز دی گئی کہ سپیشلائزڈ بینکوں پر عائد پابندی ختم کی جائے اور پنجاب کوآپریٹو بینک کیلئے کم از کم ریٹنگ کی شرط بھی ختم کر دی جائے ۔ اسی تجویز کے تحت پالیسی میں ایک خصوصی فٹ نوٹ شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس کے ذریعے پی پی سی بی ایل کو استثنیٰ دیا جا سکے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس ترمیمی تجویز کو کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دی، جس کے بعد کابینہ نے اسے باضابطہ طور پر منظور کر لیا، کابینہ کی منظوری کے بعد اب یہ پالیسی نافذ ہو چکی ہے اور پنجاب پروونشل کوآپریٹو بینک کو باقاعدہ طور پر سرکاری فنڈز رکھنے کے دائرہ کار میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں