ٹرمپ پریشر میں ،ایران جلد بازی کے موڈ میں نہیں:نجم سیٹھی
اب امریکا کی ایک شرط، تین ختم،’’ آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کچھ ایشوز پاکستان کے ساتھ ڈٖسکس کرنے کیلئے آئے ہیں کہ امریکا کے ساتھ آگے کیسے بڑھنا ہے ،اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ پر بہت زیادہ پریشر ہے کہ کوئی نہ کوئی ڈیل ہو جائے ،صدر ٹرمپ بیانات بد لتے رہتے ہیں ،کہتے ہیں کہ آج یہ ہوجائے گا، آج وہ ہوجائے گا تاکہ سٹاک مارکیٹس مستحکم رہے ،ایسا کب تک کرتے رہیں گے ، دنیا نیوز کے پروگرام’’ آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں ، ایران کو اس بات کی سمجھ آگئی ہے کہ ہم تگڑے ہیں،امریکا پر زیادہ دبائو ہے ،ایران جلد بازی کے موڈ میں نہیں ہے ،ڈونلڈ ٹرمپ پر دو بڑے پریشر ہیں، ایک پریشر یہ ہے کہ اگلے ہفتے پہلی تاریخ کو یہ جو 60 دن کی مہلت ملی ہے وہ وقت ختم ہونے والا ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کو توسیع کیلئے واپس کانگریس جانا پڑے گا ، اس کو بہت کچھ سننا پڑے گا ،دوسرا پریشر یہ ہے کہ دنیا میں تیل کی کمی ہورہی ہے ، اس سے پوری دنیا او ر امریکا کے اتحادیوں کو بھی تکلیف ہورہی ہے ،اتحادی امریکا پر پریشر ڈال رہے ہیں،تیسری بات ،امریکا کے اندر گیس کی قیمت بڑھتی جارہی ہے ،امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کہہ رہا ہے کہ ایران نیوکلیئر پر گارنٹی دے کہ وہ ایٹم بم نہیں بنائے گا،امریکا چار مقاصد لے کر چلا تھا وہ پورے نہیں ہوئے ، امریکا کی باقی شرائط ختم ہوچکی ہیں، صرف ایک پر آگیا ہے ،ایرانی وزیر خارجہ کنفرم کر نے کیلئے پاکستان آئے ہیں،پھر عمان،اس کے بعد روس جائیں گے ، روس سے کہیں گے کہ ہمیں کوئی گارنٹی لے کر دو یہ گارنٹی پاکستان نہیں دے سکتا،امریکا کی گارنٹی ہم لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔