گل پلازہ متاثرین میں51کروڑسے زائد کے چیک تقسیم

گل پلازہ متاثرین میں51کروڑسے زائد کے چیک تقسیم

کوشش کے باوجودیونیورسٹی روڈ کے معاملے پرشرمندہ ہیں،وزیراعلیٰ سندھ اب یونیورسٹی روڈ کیلئے نئی کمپنی لا رہے ہیں تاکہ جلد کام مکمل ہو:خطاب

کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سندھ نے گل پلازہ سانحہ متاثرین کے لیے 7 ارب روپے کے جامع مالیاتی پیکیج کی منظوری دی ہے ، جس میں سے 5.657 ارب روپے حاصل کر لیے گئے جبکہ 200 تصدیق شدہ متاثرین میں 51کروڑسے زائد روپے کے معاوضے کے چیک تقسیم کردیئے ، جہاں جاتا ہوںعام لوگ پوچھتے ہیں یونیورسٹی روڈ کب بنے گی،اس پرشرمندگی ہوتی ہے ، ہم نے بہت کوشش کی اس کمپنی سے کام لیں، جب کام نہیں ہوا تو اس کو ہٹا دیا، اب یونیورسٹی روڈ کیلئے نئی کمپنی لا رہے ہیں تاکہ جلد کام مکمل ہو۔انہوں نے مزیدکہا کہ میمز بن گئی ہیں کہ آبنائے ہرمز کھل گئی ہے لیکن یونیورسٹی روڈ نہیں کھلا، انہوں نے آپ کی باتیں سن لی ہیں اور آبنائے ہرمزکو دوبارہ بند کر دیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں صوبائی وزرا سید ناصر حسین شاہ، ضیا الحسن لنجار، جام اکرام اللہ دھاریجو، مکیش کمار چاؤلہ، سعید غنی، وزیراعلیٰ کے مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان بشمول زبیر موتی والا اور متاثرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی معاوضہ نقصانات کا مکمل ازالہ نہیں کر سکتا، تاہم حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام زیر التوا ادائیگیاں مکمل کرنے اور متاثرہ تاجروں کی معاونت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے ، ہر تصدیق شدہ متاثرہ شخص کو معاوضہ ملے گا، کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا۔مراد شاہ نے گل پلازہ سانحے پر جوڈیشل کمیشن رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس کی سفارشات پر عملدرآمد اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے ، جو آئندہ سندھ کابینہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق جوابدہی یقینی بنائی جائے گی،رپورٹ میں جنہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ، ان کے خلاف کارروائی ہوگی،رپورٹ کے 90 فیصد سے زائد نکات انہی خدشات کی عکاسی کرتے ہیں جو حکومت پہلے دن سے اٹھا رہی تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا صدر آصف علی زرداری نے بھی یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا، جس کے بعد ایک چینی کمپنی دو مرتبہ کراچی کا دورہ کرچکی ہے اور ایمرجنسی رسپانس نظام مضبوط بنانے کے لیے جامع فائر فائٹنگ منصوبہ تیار کیا ہے ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں ترقیاتی کاموں پر زیادہ توجہ دی گئی، تاہم اب ترقی اور سروس ڈیلیوری دونوں پر یکساں توجہ دی جارہی ہے ۔ صرف رواں سال کراچی کے لیے 300 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے مختص کیے گئے ہیں، اگرچہ شہر کو اس سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری درکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہری مسائل کو کسی ایک حکومت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کئی ساختی مسائل موجودہ حکومت سے پہلے کے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا عظیم پورہ فلائی اوور 90 روز میں مکمل ہو جائے گا، جبکہ پہلوان گوٹھ روڈ، ناتھا خان گوٹھ روڈ، شارع فیصل تا جوہر لنک روڈ، نشتر روڈ، طوری بنگش روڈ، صہبا اختر روڈ، جہانگیر روڈ، لیاری میں مرزا آدم روڈ، قلندریہ روڈ، میٹروول روڈ، ایس آئی یو ٹی کے قریب مہر النسا روڈ، چاند بی بی روڈ، اصلاح الدین روڈ اور گل پلازہ کے اطراف سڑکوں پر کام جاری ہے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ شاہراہ بھٹو کا افتتاح مئی کے پہلے 10دن میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کرینگے ، جبکہ مرغی خانہ پل اور مسجد عائشہ سے شاہراہ بھٹو کو ملانے والی سڑک بھی جلد مکمل ہوگی۔ ترقیاتی منصوبوں اور شاہراہ بھٹو پر امن و امان سے متعلق ’’گمراہ کن رپورٹنگ‘‘پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے متوازن کوریج پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے کہا معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سوشل میڈیا پر سڑکوں سے متعلق شکایات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فیلڈ ویری فکیشن سے معلوم ہوا بعض اعتراضات تعمیراتی نقائص کے بجائے انسداد تجاوزات کارروائی کے خلاف ردعمل تھے ۔وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا نے متاثرین میں 129 چیک تقسیم کیے اور یقین دہانی کرائی کہ دو سال کے اندر اتنی ہی دکانوں پر مشتمل نیا گل پلازہ تعمیر کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں