بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ڈاکٹرز کیخلا ف ایکشن کا مطالبہ
MBBS کی ڈگری ڈاکٹریٹ نہیں، ڈاکٹر ز کا طرز زندگی شاہانہ ، آڈٹ کیا جا ئے معالج کا اپنی فارماسیوٹیکل کمپنی، فیکٹری ، فارمیسی کا مالک ہونا مفادات کا ٹکراؤ بعض ڈاکٹرز ادویہ ساز کمپنیوں سے نقد رقوم اور دیگر مراعات لیتے ، ینگ فارمسسٹ
اسلام آباد (ایس ایم زمان)پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے وزیراعظم سے شعبہ صحت میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور مفادات کے ٹکراؤ کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقات کرکے کارروا ئی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ڈاکٹر فرقان ابراہیم نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کیلئے ایف بی آر، نیب، آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف آئی اے پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے ۔انہوں نے کہا کسی بھی معالج کا اپنی فارماسیوٹیکل کمپنی، فیکٹری یا فارمیسی کا مالک ہونا پیشہ ورانہ حلف کی خلاف ورزی اور مفادات کا ٹکراؤ ہے ۔بعض معالجین کی جانب سے ادویہ ساز کمپنیوں سے نقد رقوم، غیر ملکی دوروں اور گاڑیوں کی صورت میں رشوت لی جا تی ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو غیر ضروری اور غیر معیاری ادویات لکھ کر دی جاتی ہیں ۔ تمام ڈاکٹرز کا آڈٹ کیا جائے کیونکہ ان کا شاہانہ طرز زندگی ان کی ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا ، سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر ز سرکاری ڈیوٹی کے اوقات اپنے نجی ہسپتالوں میں گزارتے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں سے مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ عالمی قوانین کے مطابق صرف پی ایچ ڈی یا متعلقہ شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے ہی اپنے نام کے ساتھ 'ڈاکٹر' لکھ سکتے ہیں جبکہ ایم بی بی ایس کی ڈگری ڈاکٹریٹ نہیں ہے ، لہذا ایسے افراد کا اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنا غیر قانونی قرار دیاجا ئے ۔ مراسلے کی نقول چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں ۔