پاکستان کا ایران کیلئے ٹرانز ٹ ٹریڈ کھولنے کا فیصلہ:ٹرانزٹ آرڈر2026نافذ

پاکستان  کا  ایران  کیلئے  ٹرانز ٹ  ٹریڈ  کھولنے  کا  فیصلہ:ٹرانزٹ آرڈر2026نافذ

اشیا کسی تیسرے ملک سے روانہ ہو کر پاکستان کے راستے ایران کے کسی بھی مقام تک پہنچائی جا سکیں گی گوادر، کراچی،تفتان سمیت متعدد تجارتی راہداریوں کی منظوری، سامان کی نقل و حمل یقینی بنانے کی ہدایت

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے ایران کو تجارت میں سہولت دینے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اپنے ذریعے کسی تیسرے ملک سے ایران تک سامان کی ٹرانزٹ کی اجازت دیدی ہے ۔ وزارت تجارت نے اس حوالے سے \"ٹرانزٹ آرڈر 2026\" کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ  کنٹرول ایکٹ 1950 میں ضروری ترامیم بھی کر دی ہیں۔ حکم نامے کے تحت وہ اشیا اس سہولت سے مستفید ہوں گی جو کسی تیسرے ملک سے روانہ ہو کر پاکستان کے راستے ایران کے کسی مقام تک پہنچائی جائیں گی۔ پاکستان نے سامان کی نقل و حمل کے لیے مختلف روٹس کا بھی تعین کر دیا ہے ، جن میں گوادر اور گبد کا روٹ شامل ہے ، جبکہ کراچی/پورٹ قاسم، لیاری، ماڑہ، پسنی اور گبد کے راستے بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی/پورٹ قاسم، خضدار، دالبندین اور تفتان کے راستے بھی نوٹیفکیشن کا حصہ ہیں جبکہ گوادر، تربت، ہوشاب، پنجگور، ناگ، بیسیمہ، خضدار، کوئٹہ/لک پاس، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان پر مشتمل روٹ بھی شامل کیا گیا ہے ۔ ایک اور روٹ میں گوادر، لیاری، خضدار، کوئٹہ/لک پاس، دالبندین، نوکنڈی اور تفتان شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سامان کی نقل و حمل کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بنائے گئے قواعد اور ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں