نظامِ شمسی میں ’’پانچویں قوت‘‘کی موجودگی کا انکشاف
لاہور(نیٹ نیوز)سائنس دانوں نے کائنات کے بارے میں ایک نئی اور دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے ، جس میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہمارے کائنات کو چلانے والی چار معلوم قوتوں کے علاوہ ایک نامعلوم پراسرار ‘پانچویں قوت’ بھی موجود ہو سکتی ہے ، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے پیچھے چھپا اصل محرک ہو سکتی ہے ۔
یہ خیال موجودہ فزکس کے لیے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے ۔ ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کا کہنا ہے کہ، کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ‘ڈارک میٹر’ اور ‘ڈارک انرجی’ پر مشتمل ہے ، جسے آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا۔یہ ممکنہ پانچویں قوت دراصل اس پراسرار مادے اور ہمارے نظر آنے والے مادی جہان کے درمیان ایک ‘پل’ کا کام کر سکتی ہے ۔ اس کا سراغ ملنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کی تشکیل کے اصل مراحل کیا تھے ۔