شرح سود میں 1 فیصد اضافہ ، مشرق و سطیٰ کی جنگ سے معیشت کو شدید خطرات : سٹیٹ بینک
مہنگائی بڑھنے کا امکان ،اگلی چند سہ ماہی کے دوران ہدف سے اوپر رہے گی ، قابو کیلئے سخت موقف برقرار رکھا گیا ،تیل مہنگا ہونے سے عوام کو مشکلات،ایف بی آر وصولیاں کم شرح سود اضافے کے بعد 11اعشاریہ5فیصد ،فیصلے پر آج سے اطلاق :مانیٹری پالیسی کمیٹی ،اضافہ تجارتی سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ ہے ،کاروباری لاگت بڑھ جائے گی :صنعتکار
کراچی(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیا ں ،مانیٹرنگ ڈیسک)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا،مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ اضافہ کیا جس کے بعد شرح سود 10 اعشاریہ5فیصد سے بڑھ کر 11 اعشاریہ 5 فیصد ہو گئی ہے ،فیصلے کا اطلاق 28 اپریل سے ہوگا،مالی سال 26 کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 3اعشاریہ 8 فیصد نمو ہوئی، مالی سال 27 کے بیشتر عرصے میں مہنگائی 5 تا 7 فیصد سے اوپر رہنے کا امکان ہے ۔ پیرکوسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعدجاری پریس ریلیز میں بتایاگیاہے کہ کمیٹی نے محسوس کیا کہ مشرق وسطی ٰ کے تنازع کی طوالت سے معیشت کو لاحق خطرات شدید ہوگئے ہیں، خاص طور پر توانائی کی عالمی قیمتیں، باربرداری کے اخراجات اور بیمہ پریمیئم تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصے اوپر رہیں گے ، سپلائی چین میں خلل نے بھی موجودہ غیر یقینی کیفیت بڑھا دی ہے ۔ اگرچہ اب تک موصول ہونے والا ڈیٹا بڑی حد تک زری پالیسی کمیٹی کی توقعات کے مطابق ہی ہے تاہم اس عالمی پیش رفت کے اثرات آئندہ اہم اقتصادی معاملات میں ظاہر ہوں گے۔
اس تناظر میں کمیٹی کا تجزیہ تھا کہ مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے اور اگلی چند سہ ماہیوں میں ہدف کی حد سے اوپر رہے گی چنانچہ کمیٹی نے سخت پالیسی موقف برقرار رکھنا ضروری سمجھا تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے ۔اقتصادی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو3اعشاریہ 8 فیصد رہی، جبکہ دوسری سہ ماہی میں حقیقی شرح نمو 3اعشاریہ 9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب صنعتی شعبے میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی اور جولائی تا فروری اشیا سازی کی کارکردگی 5اعشاریہ9 فیصد کی رفتار سے آگے بڑھی، تاہم سٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے منفی اثرات چوتھی سہ ماہی میں صنعت اور خدمات کے شعبوں پر پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی شعبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ جولائی تا مارچ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر معمولی سرپلس میں رہا، جس میں ترسیلات زر نے اہم کردار ادا کیا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سابقہ تخمینوں کے مقابلے میں نچلی سطح پر رہنے کا امکان ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر اپریل تک 15اعشاریہ8 ارب ڈالر رہے اور جون 2026 تک 18 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی توقع ہے جبکہ یورو بانڈز اور بیرونی فنانسنگ نے ذخائر کو سہارا دیا۔
مالیاتی محاذ پر رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیاں ہدف سے کم رہیں اور جولائی تا مارچ کے دوران 611 ارب روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔سٹیٹ بینک کے مطابق مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے اخراجات میں کٹوتی کی گئی، تاہم تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ ایندھن کے نرخوں میں اضافہ ہوا جس کے اثرات کرایوں میں اضافے کے ذریعے مہنگائی میں منتقل ہونا شروع ہو چکے ہیں، البتہ وافر رسد کی بدولت غذائی گرانی کے قابو میں رہنے سے عمومی مہنگائی پر اس کے اثرات کا کسی حد تک ازالہ ہونے کا امکان ہے ،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس فیصلے نے بیشتر ماہرین کو حیران کر دیا کیونکہ سروے میں شامل 10 میں سے چھ تجزیہ کاروں نے شرح سود کو 10 اعشاریہ 5 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔ دوسری جانب شرح سود میں اضافے کو کاروباری برادری نے سختی سے مسترد کردیا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی کے بجائے اضافہ تجارتی سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ ہوگا اور اس سے کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا۔ وفاقی چیمبر کے مطابق پاکستان میں شرح سود پہلے ہی خطے میں بلند ترین سطح پر ہے ۔ اسی طرح کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مہنگی توانائی اور بلند شرح سود نے برآمدی شعبے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے ۔ ادھر پاکستان سٹاک بروکرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ٹریڈنگ سرگرمیوں میں کمی کا خدشہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق سٹیٹ بینک کا یہ اقدام مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور بیرونی دباؤ سے نمٹنے کی کوشش ہے ، تاہم بلند شرح سود کے باعث صنعتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہونے کا قوی امکان بھی موجود ہے ، جس سے آئندہ مہینوں میں معاشی نمو کی رفتار متاثر ہوگی اور مقرر کردہ مالیاتی اہداف بھی مشکل کا شکار ہوں گے ، جس کے باعث بے روزگاری اور غربت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا۔