پاکستان نے افغانستان میں یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنایا : وزارت اطلاعات

 پاکستان نے افغانستان میں یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنایا : وزارت اطلاعات

کارروائیاں درست انٹیلی جنس اور تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر کرتے ہیں افغان میڈیا میں گردش کرنے والے حملے کی خبریں جھوٹ پرمبنی ہیں :بیان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے بھارتی حمایت یافتہ افغان میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ  کیا گیا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے صوبے کنڑ میں میزائل اور جنگی طیاروں سے کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے ۔وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی کارروائی میں سید جمال الدین یونیورسٹی اور قریبی رہائشی علاقے متاثر ہوئے ، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 45 افراد زخمی ہوئے جن میں مبینہ طور پر خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت اطلاعات نے ان رپورٹس کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی تمام کارروائیاں درست انٹیلی جنس اور تصدیق شدہ معلومات کی بنیاد پر کرتا ہے اور کنڑ میں کسی یونیورسٹی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان جہاں اور جب بھی افغان دہشتگرد انفرااسٹرکچر پر حملہ کرے گا تو اعلان کرے گا۔ افغان میڈیا کنڑ پر تصوراتی حملوں کا پروپیگنڈا کر رہا ہے ، افغان طالبان رجیم کے پاس اپنے عوام کو دینے کیلئے کچھ نہیں ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کے پاس اپنے عوام کیلئے نہ کوئی سروس، نہ فلاح اور نہ ہی گورننس ہے ، افغان طالبان رجیم صرف غلط اطلاعات اور نفرت پر انحصار کرتی ہے ،جس نے اپنے بھارتی پروپیگنڈا آقاؤں سے صرف جھوٹ اور فالس فلیگ آپریشنز سیکھا ہے ۔کنڑ میں افغان محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے طلوع نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ حملوں میں جانی نقصان ہوا ہے ، اسی طرح بعض ذرائع نے بھی کنڑ میں یونیورسٹی پر حملے اور ہلاکتوں کا ذکر کیا ہے ۔بی بی سی پشتو کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹل کو نقصان پہنچنے کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں ہو سکی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں