عوام کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہوگا، وکلا کنونشن
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے تحت ’’ آل پاکستان لائرز کنونشن‘‘میں ملک بھر سے وکلا قیادت نے شرکت اور ملک میں قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
کنونشن میں سلمان اکرم راجہ، حامد علی خان، علی احمد کرد سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر حسیب جمالی، سیکرٹری فریدہ بانو اور پاکستان بار کے رکن بیرسٹر صلاح الدین بھی شریک ہوئے ۔سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات اعلان جنگ کے مترادف ہیں اور یہ اعلان سیاسی قیادت کو کرنا چاہیے تھا، مگر وہ اس وقت خاموش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وکلا نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں، کراچی، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا، مگر اس کے باوجود وہ سچ کے لیے کھڑے رہے ۔ انہوں نے کہا عوام کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہوگا اور ملک کو بچانے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وکلا امن پسند ہیں مگر ان کی چادر اور چار دیواری پامال کی گئی ہے ، اب وہ مفاد پرست عناصر کی بات نہیں سنیں گے۔
انہوں نے بلوچستان کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں یکجہتی کی ضرورت ہے اور وکلا پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ عابد زبیری نے کہا صرف تقاریر سے مسائل حل نہیں ہوں گے ، واضح لائحہ عمل دیا جائے کہ جدوجہد کہاں اور کیسے کرنی ہے ،حامد علی خان نے کہا کنونشن کا مقصد ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کو منظم کرنا ہے اور یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا ملک میں قانون کا اطلاق یکساں نہیں اور ایلیٹ کے لیے الگ نظام قائم ہے ، آئین میں بار بار ترامیم سے اس کی اصل روح متاثر ہوئی ہے ۔ صدر سندھ ہائیکورٹ بار حسیب جمالی نے کہا کنونشن کا انعقاد اصولی مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وکلا آج بھی متحرک ہیں۔