شرح سود آئی ایم ایف کیساتھ ملکر بڑھائی گئی :شہبازرانا

 شرح سود آئی ایم ایف کیساتھ ملکر بڑھائی گئی :شہبازرانا

حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا پٹرولیم لیوی میں مزید اضافے کا امکان ہے :دنیا مہر بخاری کیساتھ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ماہر معاشی امور اور سینئر صحافی شہباز رانا نے کہا ہے کہ شرح سود میں اضافہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ تھا جو آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کیا گیا۔ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مسلسل غلط فیصلے کر رہا ہے اور موجودہ فیصلے کی کوئی واضح معاشی توجیع نظر نہیں آتی۔دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی ڈیمانڈ بڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی حالات کے باعث بڑھ رہی ہے ۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا کی ناکہ بندی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ، جس سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک فیصد شرح سود بڑھا کر کیسے ایران جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی کو قابو کیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ بظاہر مانیٹری پالیسی کمیٹی کا نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ ہدایات کا نتیجہ لگتا ہے ۔شہباز رانا کے مطابق حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا ہے ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں جبکہ ایف بی آر کے ٹیکس شارٹ فال کا بوجھ بھی عوام پر پٹرولیم لیوی کی صورت میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ آئی ایم ایف سے کھل کر بات کرے اور موجودہ معاشی دباؤ کے پیش نظر مزید ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرے ۔ ان کے مطابق پٹرولیم لیوی میں مزید اضافے کا امکان ہے اور معاہدے کے تحت پٹرول اور ڈیزل دونوں پر فی لٹر 80 روپے تک لیوی عائد کی جا سکتی ہے ، تاہم اس وقت زیادہ بوجھ پٹرول پر ڈالا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں