انتخابی نشان کیس:لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کی سفارش

انتخابی نشان کیس:لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کی سفارش

الیکشن ایکٹ کی سیکشن 215 کی آئینی حیثیت کالعدم قرار دینے کی درخواست جسٹس سلطان تنویر احمد نے لارجر بینچ بنانے کیلئے فائل رجسٹرار آفس بھیج دی

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشان واپس لینے اور الیکشن ایکٹ کی سیکشن 215 کی آئینی حیثیت کالعدم قرار دینے کی درخواست کی سماعت کی، عدالت نے کیس کی سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے فائل رجسٹرار آفس کو بھجوا دی، وکیل نے مؤقف اپنایا کہ  کسی بھی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار غیر آئینی ہے ، سیاسی جماعت بنانا اور الیکشن میں حصہ لینا آرٹیکل 17 کے تحت بنیادی حق ہے ،انتخابی نشان چھیننا کسی جماعت کی انتخابی شناخت ختم کرنے کے مترادف ہے ، انتخابی نشان کی واپسی کے اختیارات آرٹیکل 10 اے اور شفاف ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہیں، سیاسی جماعتیں پارلیمانی جمہوریت کا ستون ہیں،سیاسی جماعتوں کی انتخابی نشان کے بغیر شناخت ممکن نہیں، استدعا ہے کہ عدالت سیکشن 215 کو کالعدم قرار دے ، کیس کے حتمی فیصلے تک الیکشن کمیشن کو کسی بھی جماعت کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے سے روکا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں