وفاقی کابینہ : قومی پالیسی منظور، پاکستان ویکسین خود تیار کرنیوالے ممالک میں شامل
کابینہ اجلاس میں نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی،سیڈ پالیسی اور نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی گئی نئی پالیسی تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کی گئی،یہ صحت کے شعبے میں اہم سنگ میل ہے :مصطفی کمال
اسلام آباد (نامہ نگار ، خصوصی رپورٹر )وفاقی کابینہ نے وزارتِ قومی صحت کی سمری پر ملک میں ویکسین کی تیاری کیلئے قومی ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے ، جس کے بعد پاکستان اپنی ضروری ویکسینز مقامی سطح پر تیار کرنے والے ممالک میں شامل ہونے کی جانب بڑھ گیا ۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس پالیسی سمیت مختلف شعبہ جاتی پالیسیوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں قومی ویکسین پالیسی کے علاوہ نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی، نیشنل سیڈ پالیسی اور نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس پیش رفت پر کہا کہ پاکستان میں اب تک ویکسین سے متعلق کوئی جامع قومی پالیسی موجود نہیں تھی، جس کے باعث یہ شعبہ نظر انداز رہا، ان کے مطابق نئی پالیسی تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور یہ صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی تیاری میں معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے بھی کردار ادا کیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے بیرونی انحصار کم ہوگا، زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور ہنگامی حالات میں عوام کو بروقت طبی تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔اجلاس میں ڈریپ کی نگرانی میں قیمتوں کے تعین اور معیار کے لئے خصوصی کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ پالیسی کا مقصد ویکسین کی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور ملک کو اس شعبے میں خود کفیل بنانا ہے ۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کابینہ کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی بریفنگ دی اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوامی ریلیف کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہا۔
وفاقی کابینہ نے نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا جبکہ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کیلئے عالمی معیار کی تربیت اور سرٹیفیکیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔اس کے علاوہ نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کا مقصد غذائی تحفظ اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہے جبکہ نیشنل سیڈ پالیسی 2025 کے تحت زرعی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد اضافہ اور عالمی کمپنیوں سے شراکت داری کے اقدامات کیے جائیں گے ،اجلاس میں وفاقی نظامت تعلیم سے متعلق فیصلے اور دیگر انتظامی امور کی بھی منظوری دی گئی جبکہ نیپرا کی سالانہ رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔