اپنا گھر سکیم، ایک کروڑ تک قرضہ : پہلے سال 50 ہزار گھروں کا ہدف مقر پہلے 10 سال مارک اپ 5 فیصد، اگلے 10 سال مارکیٹ کی شرح کے مطابق ہوگا : شہباز شریف

اپنا گھر سکیم، ایک کروڑ تک قرضہ : پہلے سال 50 ہزار گھروں کا ہدف مقر پہلے 10 سال مارک اپ 5 فیصد، اگلے 10 سال مارکیٹ کی شرح کے مطابق ہوگا : شہباز شریف

آئندہ چار سال میں10مرلے تک کے 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ ،3کھرب 2ارب روپے مختص ،تعمیراتی شعبے کے فروغ سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے :خطاب،سکیم کا باضابطہ اجرا موٹر سائیکل سواروں، پبلک ، گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں1ماہ کی توسیع،وزیراعظم سے یونیسیف وفد کی ملاقات، مزدور، کسان، کاریگر ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے :پیغام

اسلام آباد (نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے غریب اور متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کیلئے ’’وزیراعظم اپنا گھر سکیم‘‘ کا باضابطہ اجرا کر دیا۔سکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرض آسان شرائط پر فراہم کیا جائے گا ۔ منصوبے کے تحت 10 مرلے تک گھروں کی تعمیر ممکن ہوگی اور مجموعی فنانسنگ کا حجم 3کھرب 2ارب روپے رکھا گیا ہے ۔قرض کی واپسی کی مدت 20 سال ہوگی، جس میں پہلے 10 سال کیلئے 5 فیصد فکسڈ مارک اپ جبکہ اگلے 10 سال کیلئے مارکیٹ ریٹ کے مطابق مارک اپ لاگو ہوگا۔ سکیم کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہوگا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو اپنی چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور یہ ایک مقدس فریضہ ہے ،ملک کی بڑی آبادی اب بھی اپنی چھت سے محروم ہے ، اس لئے یہ سکیم پورے ملک کیلئے متعارف کرائی گئی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پہلے سال 50 ہزار گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ آئندہ چار سال میں 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ ہے ،اس سے تعمیراتی شعبے کے فروغ سے معیشت کو تقویت ملے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ سکیم کے اجرا کیلئے بھرپور محنت کی گئی اور نجی شعبے کے تعاون سے درپیش مسائل حل کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نوجوان ڈرائیور سمیت مختلف علاقوں کے مستحق افراد کو اس اسکیم کے تحت قرض فراہم کیا گیا ہے ۔ یہ منصوبہ ’’گھر ہو تو اپنا‘‘ پروگرام کا تسلسل ہے ، جس کا آغاز انہوں نے پنجاب میں ’’آشیانہ‘‘کے نام سے کیا تھا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پہلے سال کیلئے 321 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور سکیم پر عملدرآمد کا ماہانہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی رکاوٹ کو فوری دور کیا جا سکے ۔ تعمیراتی شعبہ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ سکیم میں بھرپور کردار ادا کریں، جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کو قومی سطح پر ایوارڈز بھی دئیے جائیں گے ۔تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کامیاب امیدواروں میں چیک بھی تقسیم کئے ۔ قرض کے حصول کیلئے درخواست آن لائن دینا ہوگی اور ایک ماہ کے اندر حتمی منظوری دی جائے گی۔گھر کی تعمیر کیلئے 90 فیصد فنانسنگ حکومتی سکیم کے تحت جبکہ 10 فیصد درخواست گزار کو خود ادا کرنا ہوگا۔ قرض کے حصول کیلئے کسی قسم کی فیس یا پیشگی ادائیگی کی شرط نہیں رکھی گئی۔ اسلامی و کمرشل بینک، مائیکروفنانس بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنیاں قرض فراہم کریں گی۔سکیم کے تحت 25 لاکھ، 50 لاکھ، 75 لاکھ اور ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکے گا۔

25 لاکھ قرض پر ماہانہ قسط 16 ہزار 499 روپے ، 50 لاکھ پر 32 ہزار 997 روپے ، 75 لاکھ پر 49 ہزار 497 روپے جبکہ ایک کروڑ روپے کے قرض پر 65 ہزار 996 روپے ماہانہ قسط ادا کرنا ہوگی۔قرض لینے کیلئے شناختی کارڈ ہولڈر کا پہلے سے کسی قرض میں نادہندہ نہ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ سٹیٹ بینک اور پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن سکیم کی نگرانی کریں گے ۔دوسری طرف وزیراعظم نے موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے گزشتہ ماہ دی گئی سبسڈی میں ایک ماہ کی مزید توسیع کی منظوری دے دی۔ انہوں نے سفری اور مال بردار کرایوں میں اضافے کو روکنے کی ہدایت بھی جاری کی۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عوامی ریلیف اقدامات کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کے ثمرات براہِ راست مستحق افراد تک پہنچ سکیں۔وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مشکل معاشی حالات میں عام آدمی کیلئے اربوں روپے پر مشتمل قومی ریلیف پیکیج فراہم کیا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت ہر ممکن حد تک عوام کو ریلیف فراہم کرتی رہے گی اور عام آدمی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ امید ظاہر کی کہ خطے کی صورتحال میں بہتری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف سے سیسے سے پاک مستقبل کی شراکت داری اور یونیسیف کے اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی۔وفد میں سیسے سے پاک مستقبل کے سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر عبداللہ فاضل، پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پرنیل آئرنسائیڈ، سٹینفورڈ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن سے جینا فارسیتھ اور تھامس ہرڈ شامل تھے ۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے ۔ پاکستان انسداد پولیو کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔

وفد نے وزیراعظم کو سیسے کے صحت پر مضر اثرات، اس کے پھیلاؤ کے علاقوں اور عوامی آگاہی کی ضرورت سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ بعدازاں شہباز شریف سے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کی جس میں وزارت صحت کے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،ملاقات میں وزیر برائے امور عامہ رانا مبشر اقبال اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی موجود تھے ۔وفاقی وزیر صحت نے وزیراعظم کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی لیبارٹریز کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے سرٹیفکیشن کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے صحت عامہ کے شعبے میں اصلاحات اور بہتری کیلئے سید مصطفیٰ کمال اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں دنیا بھر بالخصوص پاکستان کے محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزدور، کسان، کاریگر اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے افراد معاشرے کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سمندر پار پاکستانی لاکھوں مزدور ملک کی پہچان اور معاشی استحکام کا اہم ذریعہ ہیں، جن کی محنت سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ قومی معیشت کیلئے باعث فخر ہے ۔ حکومت بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کی ہنر مندی بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے ۔ نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ پالیسی کے تحت افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی معیار کی تربیت، زبانوں پر عبور اور سرٹیفکیشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں