پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات، ارکان میں تلخ کلامی
مشعال یوسفزئی کے وائس نوٹ پر کشیدگی بڑھی ،فلک ناز چترالی کا سخت جواب دیگر سینیٹرز کا بھی اندازگفتگو پر اعتراض ،پارٹی قیادت سے کارروائی کرنے کی اپیل
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے جہاں سینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ذرائع کے مطابق سینیٹر مشعال خان یوسفزئی کے ایک مبینہ وائس نوٹ کے بعد پارٹی کے اندر ہلچل پیدا ہوئی، جس میں انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں اور بعض سینیٹرز کے کردار پر تنقید کی جس کے بعد سینیٹ گروپ میں کشیدگی بڑھ گئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین سینیٹرز بالخصوص فلک ناز چترالی نے مشعال یوسفزئی کو سخت جواب دیا۔ وائس نوٹ میں مشعال یوسفزئی نے کہا کہ بیرون ملک موجود افراد سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں جس سے بانی پر دباؤ بڑھتا ہے جبکہ اگر بیرون ملک کارکن مالی مفادات سے ہٹ کر رویہ اختیار کریں تو ملک میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے فلک ناز چترالی نے سخت الفاظ استعمال کئے ا ورکہا کہ تم ہوتی کون ہو؟، جبکہ دیگر سینیٹرز نے بھی مشعال یوسفزئی کے اندازِ گفتگو پر اعتراض اٹھایا اور جواب دیاکہ کیا تم بشریٰ بی بی اور بانی کی بیٹی ہو جو سب کو لتاڑ رہی ہو ۔ ذرائع کے مطابق بعض سینیٹرز نے کہا کہ انہیں اس انداز میں تنقید کرنے کا اختیار نہیں۔ سینیٹرز نے پارٹی قیادت بشمول چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مشعال یوسفزئی کے خلاف پارٹی ڈسپلن کے تحت کارروائی کی جائے ۔ذرائع کے مطابق سینیٹرز نے شکایت کی کہ اس سے قبل بھی مشعال یوسفزئی کے روئیے پر اعتراضات اٹھائے گئے مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اور ان کی گفتگو سے پارٹی کے کئی رہنما خود کو نشانہ سمجھتے ہیں۔