آئل ٹینکر میں یرغمال عملہ کے اہلخانہ بے یقینی، اضطراب کا شکار

آئل ٹینکر میں یرغمال عملہ کے  اہلخانہ بے یقینی، اضطراب کا شکار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) آئل ٹینکر پر یرغمال بنائے گئے پاکستانی عملے کے اہلخانہ شدید بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہیں اور اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کر رہے ہیں۔

 گلستان سوسائٹی سکیم 33 میں واقع ایک گھر کئی روز سے کرب اور انتظار کی تصویر بنا ہوا ہے ، جہاں  یرغمال عملے میں شامل سید حسین یوسف کے اہلخانہ کو ان کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔اہلخانہ کے مطابق 21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے آئل ٹینکر ‘‘آنر 25’’ کو یرغمال بنانے کے بعد سے رابطہ منقطع ہے ، جس کے باعث گھروں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ حسین یوسف کی بیٹی معصومہ یوسف نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں، انہوں نے کھانا بھی کھایا ہوگا کہ نہیں، وہ ٹھیک تو ہوں گے ؟۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول میں ساتھی سوال کرتے ہیں تو وہ خاموش ہو جاتی ہیں اور  صرف دعا کرتی ہیں کہ والد بحفاظت واپس آ جائیں۔حسین یوسف کی اہلیہ عنبرین نے بتایا کہ واقعے کے چند روز بعد شوہر سے مختصر بات ہوئی جس میں ان کی آواز میں شدید خوف محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا ہے اور قزاق ہر وقت اسلحہ لے کر کھڑے رہتے ہیں، اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔دوسری جانب یرغمال عملے میں شامل امین بن شمس کی آڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنے والد کو بتایا کہ قزاقوں نے انہیں پکڑ لیا ہے اور ممکن ہے یہ ان کا آخری پیغام ہو۔ امین بن شمس کی اہلیہ عائشہ نے بتایا کہ قزاق عملے کو مسلسل خوفزدہ کر رہے ہیں، ہوائی فائرنگ کی جا رہی ہے اور مشین گنیں سروں پر تانی گئی ہیں۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف چند گھروں کی کہانی نہیں بلکہ تمام 11 پاکستانیوں کے اہلخانہ اسی اذیت سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ یرغمالیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں