پنجاب اسمبلی اجلاس میں شدید ہنگامہ ، 5 ترمیمی بل منظور

پنجاب اسمبلی اجلاس میں شدید ہنگامہ ، 5 ترمیمی بل منظور

اپوزیشن کی جانب سے پنجاب حکومت کو ٹرانسجینڈر کہنے پر حکومتی ارکان کا احتجاج گلا پھاڑ کر بات نہ کریں :ڈپٹی سپیکر،پی پی رکن کی اپنی حکومت بنانے کی دھمکی

لاہور(سیاسی نمائندہ،مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور تلخ جملوں کی نذر ،اپوزیشن کی جانب سے پنجاب حکومت کو ٹرانسجینڈر کہنے پر حکومتی ارکان کا شدید احتجاج ،ایوان میں نعرے بازی کے باعث ماحول مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا، 5 ترمیمی بل منظور کرلئے گئے ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز سپیکر ملک محمد احمد خان کی  زیر صدارت 32 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ پیپلز پارٹی کے حکومتی رکن ممتاز چانگ نے نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت نہ ملنے پر سرائیکی صوبہ بنانے اور اپنی حکومت قائم کرنے کی دھمکی دیدی اور کہا کہ اگر آپ مجھ کو بات کرنے کا موقع نہیں دیں گے تو پھر کس کو دیں گے ،قیادت کے باعث حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ جس پر ڈپٹی سپیکر نے جواب دیا کہ ٹائم ختم ہونے پر آپ کو مائیک نہیں دے سکتا ، آپ گلا نہ پھاڑ یں ، یہ ہاؤس ہے رحیم یار خان نہیں جہاں گلاپھاڑ کر بات کریں گے ،انہوں نے ممتاز چانگ کا مائیک بند کرنے کا حکم دیدیا۔

اپوزیشن رکن سردار محمد علی نے پیپلز پارٹی کو امریکا ایران مذاکرات میں ’’چائے والے کردار‘‘ کا طعنہ دیا اور بعد ازاں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے حکومت پر بلوں کو بغیر پڑھے منظور کرانے کا الزام عائد کیا، جس پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سفید کپڑوں میں ملبوس افراد نے ایوان میں آ کر ان پر حملہ کیا، اگر وہ اس واقعے کو ثابت نہ کر سکے تو وہ استعفیٰ دیدیں گے بصورت دیگر اپوزیشن کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ بعد ازاں سرکاری کارروائی کے دوران حکومت نے صوبائی ملازمین کے سماجی تحفظ ترمیمی بل 2026ء، چناب یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رحیم یار خان بل 2026ء، متروکہ جائیداد و بے گھر اشخاص قوانین تنسیخی ترمیمی بل 2026ء، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی پنجاب ترمیمی بل 2026ء اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس پنجاب ترمیمی بل 2026ء منظور کرلئے ، جبکہ اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔اجلاس آج دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں