اسلام قبول کرنیوالی لڑکی کو دارالامان لاہور بھجوانے کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے لڑکی کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کا حکم دیدیا دوران سماعت نادرا ریکارڈ پر سوالات اٹھائے گئے ، سماعت 20 مئی تک ملتوی
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی لڑکی عائشہ طارق کو والدین کے حوالے کرنے سے متعلق کیس میں آئندہ سماعت تک دارالامان لاہور منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران ہدایت کی کہ عائشہ طارق کی عمر کے تعین کیلئے ایک ہفتے کے اندر میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے ۔سماعت کے دوران والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی کی عمر 15 سال ہے اور خدشہ ہے کہ اس کی شادی ہو چکی ہے جبکہ عائشہ طارق نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ دو سال قبل اسلام قبول کر چکی ہیں اور ان کی عمر 20 سال ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شادی کرنا مقصود ہوتی تو اب تک کر چکی ہوتیں اور والدین نے ان کی عمر کم درج کرا رکھی ہے ۔
پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ والد کی جانب سے درج اغوا کے مقدمے میں بھی لڑکی کی عمر 18 سال لکھی گئی تھی، اس پر عدالت نے عمر کے تعین کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کا حکم جاری کیا۔دوران سماعت نادرا ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ نادرا ریکارڈ میں غلطی یا ردوبدل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا اور بعض اوقات والدین بچوں کی عمر کم درج کروا دیتے ہیں۔جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ مذہب کی تبدیلی ایک الگ معاملہ ہے ، تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ لڑکی نے گھر کیوں چھوڑا۔ اس پر عائشہ طارق نے مؤقف اپنایا کہ اہل خانہ انہیں دوبارہ مسیحی مذہب اختیار کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے ۔
عدالت نے لڑکی سے رہائش اور ملازمت سے متعلق بھی استفسار کیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہیں اور وہیں رہائش پذیر ہیں۔ عدالت نے اس پہلو پر تشویش کا اظہار کیا تاہم پولیس نے وضاحت کی کہ مذکورہ مقام پر صرف سیلون سروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف دیا کہ اگر عمر 18 سال سے کم ثابت ہوئی تو لڑکی کو والدین کے حوالے کیا جا سکتا ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ کیس میں مذہب کی تبدیلی اور مبینہ دباؤ کے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ تک عائشہ طارق کو دارالامان لاہور میں رکھنے کا حکم دے دیا۔