بجلی سبسڈی ختم، جنوری سے صرف مستحق افراد کو ٹارگٹڈ رعایت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد(مدثر علی رانا)پاور سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق افراد کو فراہم کرنے کیلئے حکومت نے نیا فارمولا تیار کرلیا۔ حکومت نے پاور سیکٹر کیلئے موجودہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جنوری 2027 سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نیا نظام نافذ ہو گا جس کے تحت صرف مستحق صارفین کو رعایت فراہم کی جائے گی۔باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں سبسڈی کے موجودہ نظام کو ختم کر کے جنوری 2027 سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نیا نظام نافذ کرے گی جس کے تحت صرف مستحق صارفین کو رعایت دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق یہ ٹارگٹڈ سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر دی جائے گی تاکہ کم آمدنی والے گھرانوں کی درست نشاندہی ممکن ہو سکے ۔ اس اقدام کا مقصد بجلی سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنا بھی ہے کیونکہ اس وقت کئی صارفین 200 یونٹس سے کم استعمال ظاہر کرنے کیلئے ایک سے زائد میٹرز استعمال کرتے ہیں۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی طور پر مشکل ضرور ہو گا تاہم معیشت کی بہتری اور وسائل کے بہتر استعمال کیلئے ناگزیر ہے ۔
نئی پالیسی کے تحت موجودہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی کے نظام کو ختم کر کے ایک باقاعدہ اور شفاف نظام متعارف کرایا جائے گا۔حکومت اس مقصد کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے بجلی صارفین کو نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری سے منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے جس کے بعد مستحقین کی تصدیق کے مراحل مکمل کیے جائیں گے ۔ سبسڈی کی ادائیگی کے طریقہ کار کے لیے رواں ماہ کے اختتام تک ایک بیرونی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔دوسری جانب حکومت آبپاشی کے شعبے میں بھی اصلاحات لا رہی ہے ۔ پنجاب میں پہلے سے نافذ ڈیجیٹل ای-آبیانہ نظام کو سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان تک توسیع دی جائے گی جسے اگست 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ فروری 2027 تک آبپاشی کے پانی کے نرخوں کو آپریشن اور مینٹی ننس اخراجات کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 200 ملین ڈالر کی دوسری قسط حاصل کرنے کے قریب ہے ، جس کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل 8 مئی کو واشنگٹن میں متوقع ہے ۔