آلودگی انسانی صحت کیلئے بڑا خطرہ، پاکستان میں سالانہ 40 ہزار اموات : بریتھ کانفرنس
آلودگی پیدا کرنیوالے محفوظ اور خمیازہ متاثرہ ممالک بھگت رہے ، ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات ناگزیر،مصد ق ملک پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ صرف ایک فیصد :شیری رحمان، دستیاب فنڈز کا بہتر استعمال کرنا ہوگا ، وفاقی وزیر خزانہ
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفا قی وزیر مصدق ملک اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی انسانی صحت کیلئے بڑا خطرہ ہے ،پاکستان میں سالانہ 40 ہزار سے زائد اموات آلودگی کے باعث ہو رہی ہیں ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ آلودگی پیدا کرنیوالے محفوظ اور خمیازہ متاثرہ ممالک بھگت رہے ، ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے ، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بے پناہ نقصانات اٹھا چکا ہے ، پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے ، فضائی آلودگی شہریوں خصوصا بچوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے ، درخت لگانا کافی نہیں ان کی حفاظت بھی ضروری ہے ، ماحولیاتی نقصانات کا ازالہ عالمی ذمہ داری ہے ، موسمیاتی بحران میں ذمہ دار اور متاثرہ ممالک برابر نہیں ہیں۔ آلودہ ہوا کے باعث انسانی زندگی کے چھ سے سات سال کم ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک فیصد سے بھی کم کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے ، جبکہ دنیا کے صرف دس ممالک تقریبا 70 سے 75 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر رہے ہیں اور تین ممالک مل کر 60 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اسے عالمی ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ممالک آلودگی پیدا کر رہے ہیں وہ اس کے اثرات نہیں بھگت رہے جبکہ متاثرہ ممالک اس کا خمیازہ اٹھا رہے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کاربن اخراج اور گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ شدید گرمی کی بڑی وجہ بن رہا ہے ،پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ صرف ایک فیصد ہے ۔کم اخراج کے باوجود پاکستان کلائمٹ انجسٹس کا شکار ہے ،جنگوں کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے ۔جنگ کے باعث ماحولیات کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے ، سرحد پار آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے ، پاکستان میں سالانہ 40 ہزار سے زائد اموات آلودگی کے باعث ہوتی ہیں ۔ دنیا میں 60 سے زائد تنازعات ماحولیاتی بحران میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں ۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آئی ایم ایف سے 2 کروڑ ڈالر کلائمیٹ ریزلینس کے مل جائیں گے ،ہمیں دستیاب فنڈز کو بہتر استعمال کرنا ہوگا ، کیپٹل مارکیٹ میں گرین انویسٹمنٹ کی بڑی گنجائش ہے ۔