معرکہ حق:سینیٹ کا افواج پاکستان کو خراج تحسین، متفقہ قرارداد منظور
ہمیں اس قرارداد پر کوئی اعتراض نہیں:اپوزیشن لیڈر ، مولاناادریس کی شہادت پر بھی مذمتی قرارداد پاس بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی یقین دہانی نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا اجلاس سے بائیکاٹ ، کورم کی نشاندہی، اجلاس ملتوی
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )سینیٹ کا افواج پاکستان کو خراج تحسین، معرکہ حق کے حوالے سے قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے معرکہ حق کے حوالے سے ایوان میں قرارداد پیش کی۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ہمیں اس قرارداد پر کوئی اعتراض نہیں ۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ قرارداد میں کوئی سیاسی بات نہیں ہونی چاہیے جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہاکہ یہ قرارداد افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد ہے اس میں سیاسی بات نہیں جس کے بعد قرار دار کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔ سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیر صدارت ہوا ، جے یوآئی کے رہنمامولانا محمد ادریس کی شہادت پر ایوان بالا میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔
یہ قرارداد جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عطائالرحمن نے پیش کی۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتاری کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مولانا محمد ادریس سابق رکن خیبرپختونخوا اسمبلی بھی رہ چکے ہیں اس موقع پر ایوان نے قرارددا متفقہ طور پر منظور کر لی۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی اراکین نے بانی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی یقین دہانی نہ ملنے پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا،دو گھنٹے کے بعد اپوزیشن کے ایک ممبر نے کورم کی نشاندہی کرکے اجلاس کو ملتوی کرا دیا ۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ اگر حکومت بانی سے ملاقات اور ان کے ذاتی معالجین سے علاج کی سہولیات فراہم نہیں کرسکتی تو ہم اس اجلاس کی کاروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں جس کے بعد پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن اراکین واک آؤٹ کر گئے ۔ حکومتی سینیٹرز بھی انھی مناکر واپس ایوان میں نہ لاسکے ۔ قبل ازیں ایوان بالا میں نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا تو ڈپٹی چیرمین سینیٹ نے کہاکہ کہ رولز کے مطابق نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔