موسمیاتی تبدیلی سے بڑھتی نقل مکانی شہروں پربوجھ:ماہرین
متاثرہ دیہی آبادی کی شہروں کو غیر منصوبہ بند ہجرت مسائل میں اضافہ کررہی
اسلام آباد(نامہ نگار)ماہرین، محققین اور پالیسی سازوں نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی نقل مکانی ایک بڑے انسانی، سماجی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے جس سے نمٹنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی، مربوط پالیسی سازی، مستند ڈیٹا اور بین الادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے ۔یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام پنجاب میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کے موضوع پر منعقدہ ویبینار میں کہی گئی۔
ماہرین نے کہا کہ شدید بارشیں، سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمیاتی خطرات لاکھوں افراد کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔محقق مریم شبیر نے کہا کہ 2025 کے غیر معمولی مون سون سیلاب سے جنوبی پنجاب کے چھ اضلاع میں 5 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ دیہی آبادی کی شہروں کی جانب غیر منصوبہ بند ہجرت کم اجرت، غذائی قلت اور سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔