بیروزگاری ، مہنگائی ، معاشی بحران کیخلاف عید کے بعد تحریک: حافظ نعیم
فیصل آباد میں 150 سے زائد ملیں بند ،چند سڑکیں بنادینا گڈ گورننس نہیں، آئی پی پیز مافیا عوام کا خون چوس رہا ہے گندم کی قیمت 3500 من کسان دشمنی، اب چہروں کے بجائے نظام بدلنے کی ضرورت ہے :فیصل آباد میں خطاب
فیصل آباد (سٹی رپورٹر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ، فیصل آباد میں 150 سے زائد ملیں بند،جبکہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں، اب چہروں کے بجائے نظام بدلنے کی ضرورت ہے ، اور اسی مقصد کیلئے عید کے بعد بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔فیصل آباد میں ممبر شپ ڈرائیو کیمپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ اسے مسلسل لوٹ رہا ہے ۔ ان کے مطابق ظاہری ترقی کے نام پر چند سڑکیں بنانا گڈ گورننس نہیں۔انہوں نے کہا کہ 32 سال سے آئی پی پیز مافیا عوام کا خون چوس رہا ہے اور قوم ان بجلی گھروں کو بند رکھنے کے باوجود ان کے پیسے ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے گندم کی قیمت 3500 روپے من مقرر کرنے کو کسان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ادارے سستی گندم خرید کر بعد میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ حکومت تعلیم اور صحت بہتر بنانے کے بجائے سکولوں کو آؤٹ سورس کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے تشہیر پر مرکوز ہیں۔حافظ نعیم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب دیگر ممالک میں قیمتیں کم ہیں تو پاکستان میں پٹرول 415 روپے فی لٹر تک کیوں پہنچ گیا ہے ۔ ان کے مطابق فی لٹر پٹرول پر 120 روپے لیوی اور 35 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، جس کا سب سے زیادہ بوجھ موٹر سائیکل سوار طبقے پر پڑ رہا ہے۔