ایرانی طیاروں کی موجودگی ، خبر سے امن کوششوں کو نقصان پہنچا

 ایرانی طیاروں کی موجودگی ، خبر سے امن کوششوں کو نقصان پہنچا

امریکی میڈیا کی خبر کا کیا جواز ، وہ کون ہیں جنکوپاکستان کا ثالثی کردار ہضم نہیں ہو پا رہا

(تجزیہ:سلمان غنی)

پاکستان کی جانب سے ایرانی طیاروں کی نور خان ایئر بیس پر موجودگی بارے امریکی میڈیا کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دینے کے عمل سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان نیک نیتی سے اپنے ثالثی کردار پر کاربند ہے اور مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کے حوالہ سے سرگرم ہے اور فریقین ایک بار نہیں متعدد بار پاکستان کے غیر جانبدارانہ ثالثی عمل کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیہ  خطے میں امن و استحکام کے لئے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش ہے ، لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ ایرانی طیاروں کی نور خان ایئر بیس پر موجودگی کی بے سروپا امریکی میڈیا کی خبر کا کیا جواز ہے اور وہ کون ہیں جنہیں پاکستان کا ثالثی کردار ہضم نہیں ہو پا رہا اور کیا وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوں گے ؟،امریکا ایران جنگ میں پاکستانی کردار کا ایک زمانہ معترف ہے کہ پاکستان نے کمال ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کے ساتھ شریک یا فریق بنے بغیرجنگ بندی ممکن بنائی۔

یہ کہنا کہ ایرانی جہاز نور خان ایئر بیس پر موجود ہیں جان بوجھ کر ایک نئی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش ہے اس لئے کہ ٹائمنگ بڑی حساس ہے اور مقصد خطے میں استحکام اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے ۔یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی جب ایران نے امریکی جبکہ امریکا نے ایرانی تجاویز مسترد کیں اور اب بھی وہ پاکستان کی لیڈر شپ کے ساتھ رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا ایران کے درمیان جنگی کیفیت میں پاکستان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو خود عالمی میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں انہوں نے اقرار کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے ثالثی عمل میں غیر جانبدارانہ حیثیت قائم رکھی اور سہولت کار کے طور پر ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس پر کسی ایک فریق کو اعتراض ہو۔ ان رپورٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان نے اپنے ذمہ دارانہ طرز عمل کے ذریعہ فریقین پر اپنا اعتماد اور اعتبار نہ صرف قائم رکھا ہے بلکہ دونوں پاکستان کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں اور عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان خطے میں ہیلنگ سٹیٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس لئے اس پر مختلف سمتوں سے دباؤ آنا فطری ہے۔

پاکستان اس وقت کمال ذمہ داری ظاہر کرتے ہوئے ایسے طرز عمل اختیار کرنے سے گریزاں ہے کہ جس کے باعث امریکا یا ایران کیساتھ تعلقات خراب ہوں ،کیونکہ خطے کی کشیدگی کا براہ راست اثر پاکستان کی سلامتی اور معیشت پر پڑتا ہے ۔اس مرحلہ پر مذکورہ خبر کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے ۔ پاکستان کی جانب سے آنے والی اس وضاحت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے ثالثی عمل پر کسی قسم کی کنفیوژن بارے حساس ہے اور اپنے طرز عمل اور طریقہ کار سے اس نے فریقین کو کسی شکایت کا موقع نہیں دیا اور اب بھی اسلام آباد اپنے ثالثی عمل کو ہر حوالہ سے غیر جانبدارانہ رکھے ہوئے ہے ، البتہ نئی پیدا شدہ صورتحال میں چین کا کردار سب سے اہم ہے اور وہ اس امن عمل کا سب سے بڑا غیر اعلانیہ حمایتی ہے اور اس بنا پر وہ پاکستان کے پیچھے کھڑا نظر آ رہا ہے اور اس کا مقصود بھی امن ہے اور وہ امن عمل کو ہی اپنے معاشی مفادات کے لئے ناگزیر سمجھتا ہے اور وہ پاکستان کے کردار کوکسی کنفیوژن کا شکار نہیں بننے دے گا ۔ اسی بنا پر یہی کہا جا رہا ہے کہ بیجنگ میں امریکی صدر کی چین کے صدر سے ملاقات اس خطہ میں امن و استحکام کے حوالہ سے اہم ہوگی جس میں دونوں صدور کو پاکستانی کردار کو سراہنا پڑے گا اور غالباً اس امکان کے پیش نظر بھی کچھ عناصر پاکستان کے سفارتی کردار پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں