عمران سے ملاقات ورنہ پیر کو ہنگامہ ہو ا تو ذمہ دار حکومت ہوگی:محمود اچکزئی

عمران  سے  ملاقات  ورنہ  پیر  کو  ہنگامہ  ہو ا  تو  ذمہ  دار  حکومت  ہوگی:محمود  اچکزئی

حکومت واضح کرے ملاقات کب کروائی جائیگی :اپوزیشن لیڈر،بانی کی صحت کے معاملات حکومتی نگرانی میں ہیں :طارق فضل خطے میں کشید گی سے معیشت کو منفی خطرات ،10ماہ میں پٹرولیم لیوی سے 1342 ارب جمع:وزارت خزانہ ، رپورٹ اسمبلی پیش

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق معاملات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت واضح کرے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب کروائی جائے گی اور انہیں ان کی مرضی کے ہسپتال کب  منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کا رویہ برقرار رہا اور پیر کو ایوان میں ہنگامہ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپوزیشن لیڈر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تین سال ہو چکے ہیں، انصاف کے تقاضوں کے مطابق مقدمات کے فیصلے جلد ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار عدالتوں سے رجوع کرنے کے باوجود ریلیف نہیں ملا جبکہ کسی کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تمام معاملات حکومت کی نگرانی میں ہیں اور میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں فوری اقدامات کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کر رہی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ رابطہ کاری بھی ضروری ہے ۔

اس موقع پر اسد قیصر نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ملاقات کی اجازت دی جائے ، علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور بدلتے جغرافیائی حالات کے باعث پاکستان کی معیشت کو منفی خطرات لاحق ہیں، اگر یہ دبا ئو برقرار رہا تو بیرونی معاشی ماحول مزید متاثر ہو سکتا ہے ۔ وزارتِ خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ۔رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ممکنہ اثرات کو کم کرنے کیلئے بروقت اقدامات کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم کی روزانہ فراہمی کی نگرانی کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے ۔ وزارت کے مطابق مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے قبل اے پی سی سی اور این ای سی کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے ، جن میں میکرو اکنامک فریم ورک کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک پٹرولیم لیوی کی مد میں 1342 ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ یہ آمدن مختلف عوامی فلاحی پروگراموں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت دیگر سکیموں پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں انشورنس بل 2026 قومی اسمبلی میں پیش کردیاگیا۔ انٹر نیشنل ایئر لائنز کارپوریشن (تبدیلی)(تنسیخی) آرڈیننس 2026 بھی پیش کردیاگیا۔ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی تو کورم پورانہ ہونے پر سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دیا بعدازاں کورم پورا ہونے پر اجلاس دوبار ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی کی صدارت میں شروع ہوا صوابی میں طویل لوڈشیڈنگ، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی سہ پہر 5 بجے تک ملتوی کردیاگیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں