پولینڈ میں 4ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ ختم

پولینڈ میں 4ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ ختم

امریکی فوج کو تعینات نہ کرنے کا فیصلہ مشاورت سے کیاگیا :جنرل کرسٹوفر لینیو منسوخی ممکنہ طور پر جرمنی سے فوجیوں کے انخلا سے جڑی ہو سکتی :پولش وزیردفاع

واشنگٹن (اے ایف پی)امریکا نے پولینڈ میں 4ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کر دی ، امریکی حکام کا کہناہے کہ واشنگٹن یورپ میں اپنی افواج کی تنظیمِ نو کر رہا  ہے ، جرمنی سے بھی ہزاروں فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا جا چکا ہے ۔امریکی فوج کے قائم مقام چیف آف سٹاف جنرل کرسٹوفر لینیو نے کانگریس کی سماعت کے دوران کہا کہ امریکی یورپی کمان کے سربراہ کو فورس میں کمی کے احکامات موصول ہو چکے ہیں۔ سیکنڈ آرمرڈ بریگیڈ کومبیٹ ٹیم کی تعیناتی کے حوالے سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس یونٹ کو یورپ میں تعینات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ امریکی آرمی کے سیکرٹری ڈین ڈرِسکول نے تصدیق کی کہ پولینڈ میں یونٹ کی تعیناتی چند روز قبل منسوخ کر دی گئی تھی جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں پنٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ امریکا جرمنی سے 5 ہزار فوجی واپس بلائے گا اور یہ عمل اگلے 6 سے 12 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔پولینڈ کے وزیر دفاع وادیسواف کوسینیاک کامش نے کہا کہ پولینڈ میں تعیناتی کی منسوخی ممکنہ طور پر جرمنی سے فوجیوں کے انخلا سے جڑی ہو سکتی ہے ، اگر جرمنی سے فوجی پولینڈ منتقل کر دئیے جائیں تو مجموعی سکیورٹی صورتحال میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ایک نیٹو اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکا یورپ میں اپنی فوجی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے تاہم روٹیشنل فورسز پر توجہ سے اتحاد کی دفاعی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی بلکہ کینیڈا اور جرمنی کی بڑھتی ہوئی موجودگی نیٹو کو مزید مضبوط بنا رہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں