پاکستان کے کہنے پر ایران سے جنگ بندی کی،صبر جواب دیتا جارہا ہے:ٹرمپ
ذیلیاں پاکستانی قیادت شاندار،ایرانی جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی اچھی تجویز ،افزودگی لیول کی گارنٹی غیرتسلی بخش،چینی کمپنیوں پر پابندی اٹھانے پر غور کرینگے :امریکی صدر تائیوان کو آزادی کی کوششوں پر وارننگ،ہتھیار دینے یا نہ دینے کا جلد فیصلہ کرنیکا اعلان،تیل مہنگا،واشنگٹن بات چیت جاری رکھنے پر تیار،پاکستانی ثالثی ناکام نہیں:عراقچی
واشنگٹن،تہران(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دراصل پاکستان کے کہنے پر کی گئی ہے ،اب صبر جواب دیتا جارہا ہے ۔چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی، میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کیلئے ایک ’’فیور‘‘ کے طور پر کیا۔ انہوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ شاندار لوگ ہیں‘‘۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے بارے میں اُن کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے اور چینی صدر شی جن پنگ اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنی چاہیے ، تاہم چین کی جانب سے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ وہ اس معاملے میں کردار ادا کرے گا۔ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا میں نے ایران کی تجاویزکو دیکھا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی اچھی تجویز ہے مگر یورینیم کے افزدوگی سے متعلق لیول کی گارنٹی تسلی بخش نہیں ہے ۔
ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہ آیا شی جن پنگ نے ایران پر آبنائے کھولنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا کوئی پختہ وعدہ کیا ہے ، ٹرمپ نے کہا:میں کسی خاص رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا، کیونکہ جب آپ کسی سے رعایت لیتے ہیں تو بدلے میں کچھ دینا بھی پڑتا ہے ۔ٹرمپ نے مزید کہا ہم نے ایران کی مسلح افواج کو تقریباً تباہ کر دیا ہے ۔ شاید ہمیں کچھ مزید صفائی کا کام کرنا پڑے ۔ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اشارہ دیا کہ افزودہ یورینیم کو صرف ’’عوامی تاثر‘‘ کے لیے امریکی نگرانی میں لینے کی ضرورت ہے ، عملی ضرورت کے طور پر نہیں۔انہوں نے کہا چینی صدر شی جن پنگ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو کوئی فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا جو کہ ایک بڑا بیان ہے ۔تاہم چین نے ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ وہ ایران کو فوجی سامان فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ رکھتا ہے ، اور انہیں بے بنیاد الزامات قرار دیا ہے ۔ ت
جزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ غالباً ایران پر سخت دباؤ ڈالنے یا اس کی فوجی حمایت مکمل طور پر ختم کرنے کے حق میں نہیں ہوں گے ، کیونکہ ایران امریکا کے مقابلے میں ایک اہم توازن رکھنے والا ملک سمجھا جاتا ہے ۔ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران چینی وزارتِ خارجہ نے ایک واضح بیان بھی جاری کیا جس میں امن معاہدے کی کوششوں کی حمایت تو کی گئی، لیکن یہ بھی کہا گیا کہ یہ تنازع کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور اسے جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔امریکی صدر نے بتایا کہ چین امریکا سے اربوں ڈالر کی سویا بین خریدے گا، جو کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے ۔تائیوان سے متعلق سوالات پر ٹرمپ نے کہا کہ تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی، ممکن ہے دیں اورممکن ہے نہ دیں،اس بارے میں جلد فیصلہ کریں گے ، انہوں نے کہا پہلے اس شخص سے بات کریں گے جو اس وقت تائیوان کی قیادت کر رہا ہے ۔
یہ واضح نہیں تھا کہ ٹرمپ کا اشارہ تائیوان کے صدر لائی چِنگ تے کی طرف تھا یا نہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے خودمختار تائیوان کو باضابطہ آزادی کی کوششوں سے خبردارکرتے ہوئے کہا ہم جنگیں نہیں چاہتے ، اور اگر معاملات اسی طرح برقرار رہے جیسے ہیں، تو میرے خیال میں چین اس پر مطمئن رہے گا،لیکن ہم یہ نہیں چاہتے کہ کوئی یہ کہے کہ آئیے آزادی کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ امریکا ہماری پشت پناہی کر رہا ہے ۔ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان معاملے پر گفتگو کی، نہیں لگتا کہ تائیوان پر کوئی تنازع ہونے جا رہا ہے ، تائیوان کے حوالے سے چین سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر شی جن پنگ کو آمر سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا میں انھیں چین کا صدر سمجھتا ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اُن چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہے ہیں جو ایرانی تیل خریدتی ہیں، کیونکہ جنگ طویل ہوتی جا رہی ہے ،اس بارے میں آئندہ چند دنوں میں فیصلہ کریں گے ۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے دو دن تک اپنے میزبان شی جن پنگ کی تعریفوں کے باوجود تجارت کے معاملے میں کوئی بڑا معاہدہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایران کی جنگ ختم کرانے کیلئے چین کی طرف سے کوئی عملی مدد سامنے آئی۔جنگ کے خاتمے کیلئے ہونے والی بات چیت جو نومبر میں ہونے والے اہم امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کیلئے ایک سیاسی مسئلہ بن چکی ہے ، گزشتہ ہفتے سے معطل ہے ،تنازع کے حل میں پیش رفت نہ ہونے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں صحافیوں سے کہا کہ تہران کو امریکا کی طرف سے ایسے پیغامات ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن بات چیت جاری رکھنے کیلئے تیار ہے ۔
ہم امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کی پیش رفت کے ساتھ ہم ایک اچھے نتیجے تک پہنچیں گے تاکہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ ہو سکے اور ہم اس آبنائے سے معمول کی آمدورفت کو تیز کر سکیں۔عراقچی نے کہا ایران سفارت کاری کو موقع دینے کی کوشش کر رہا ہے ، لیکن امریکا پر اعتماد نہیں کرتا کیونکہ اس نے ماضی میں ایران پر فضائی حملے کر کے مذاکرات کو متاثر کیا ہے ،تہران چین کی کسی بھی ممکنہ شمولیت کا خیرمقدم کرے گا ،انہوں نے کہا پاکستان کی ثالثی کا عمل ابھی ناکام نہیں ہوا، لیکن یہ ایک نہایت مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے ، جس کی بڑی وجہ امریکی رویہ اور ہمارے درمیان موجود عدم اعتماد ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کیلئے بھی تیار ہے اور سفارتی حل کے لیے بھی،ان کے مطابق وہ جہاز جو ایران پر حملہ کرنے والے ممالک سے تعلق نہیں رکھتے ، آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ایران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی بنائے رکھیں۔