چترال کے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں ، سینیٹ فنکشنل کمیٹی
سیلاب سے بچاؤ، سڑکوں، بجلی ،ٹیلی کمیونیکیشن منصوبوں پر پیشرفت رپورٹ طلب فنی تربیت، فوڈ پراسیسنگ ،مقامی این جی اوز کے اشتراک سے روزگار بڑھانے پر زور
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر نیاز احمد کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ‘‘چترال میں انفراسٹرکچر اور ترقی’’سے متعلق معاملے پر تفصیلی غور کیاگیا، کمیٹی نے کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور چترال کے عوام کے لیے انفراسٹرکچر، سیلاب سے بچاؤ، ٹیلی کمیونیکیشن اور روزگار سے متعلق منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ 5 میگاواٹ ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 7 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے کی منظوری پی سی ون فریم ورک کے تحت دی جا چکی ہے۔سینیٹر طلحہ محمود نے چترال کے حساس علاقوں میں پانی کے بڑھتے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حفاظتی دیواروں کی فوری تعمیر پر زور دیا۔
چیئرمین کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کوسیلاب سے بچاؤ، سڑکوں، بجلی ٹیلی منصوبوں پر پیش رفت بارے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں چترال کے سیلاب سے متعلق 1.4 ارب کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا ،کمیٹی کو بتایا گیا کہ چترال بونی مستوج ،شندور روڈ منصوبہ رواں سال اکتوبر سے دسمبر کے درمیان مکمل ہونے کا امکان ہے ،نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن نے بتایا کہ علاقے کے 9 اداروں میں تربیتی پروگرام جاری ہیں،کمیٹی نے فنی تربیت، فوڈ پراسیسنگ ،مقامی این جی اوز کے اشتراک سے روزگار بڑھانے پر زور دیا۔