بجٹ مذاکرات نامکمل ، آئی ایم ایف وفد واپس چلاگیا
اب ورچوئل مذاکرات ہونگے ،ٹیکس ہدف ، شرح نمو ، افراط زر پر اختلاف برقرار اگلی قرض قسط کیلئے پاکستان سے تین برسوں کیلئے میکرواکنامک فریم ورک طلب
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شیڈول مذاکرات کے اختتام پر آئی ایم ایف کیساتھ بجٹ مذاکرات مکمل نہ ہو سکے اور آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے ورچوئل مذاکرات جاری رہیں گے شیڈول مذاکرات مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف وفد واپس روانہ ہو گیا ایک روز بعد سے ورچوئل مذاکرات شروع ہونگے ، آئی ایم ایف نے اگلی قرض قسط کیلئے پاکستان سے آئندہ تین برسوں کیلئے میکرواکنامک فریم ورک مانگ لیا، ورچوئل مذاکرات میں آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے وفاقی بجٹ کیلئے اہداف طے کیے جائیں گے ، مذاکرات کے دوران معاشی ٹیم نے آئندہ مالی سال کیلئے 4.1 فیصد معاشی شرح نمو کی تجویز دی جبکہ آئی ایم ایف نے 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا، آئندہ مالی سال کیلئے وزارت خزانہ نے اوسط افراط زر 8.6 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے جس پر آئی ایم ایف نے اتفاق نہیں کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کیلئے فنانسنگ ارینجمنٹس، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کے تخمینے پر اتفاق ہونا باقی ہے ،ایف بی آر ٹیکس ہدف بھی ورچوئل مذاکرات کے دوران فائنل کیا جائے گا، آئی ایم ایف کیساتھ ورچوئل مذاکرات آئندہ ہفتے تک جاری رہیں گے اور بجٹ میکنگ مکمل کی جائے گی ۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ تین سالہ معاشی پلان میں میکرواکنامک فریم ورک کے اہداف موجودہ صورتحال کیمطابق حقائق پر مبنی ہوں۔ ان اہداف پر اقتصادی جائزہ کے دوران پیشرفت بھی دینا ہو گی۔ وفد کی جانب سے لگائے گئے تخمینوں کیمطابق عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتیں ہونے کے باعث اگلے مالی سال کی ابتدائی دو سہ ماہیوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے جس کے نتیجے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ مالی سال میں مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے ۔
عالمی مالیاتی ادارہ کا زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی آمدن کو بھی تخمینوں میں شامل کرنے کا مطالبہ ہے تاکہ ٹارگٹ حاصل کیا جائے ۔ معاشی ٹیم آئی ایم ایف کو قائل کر رہی ہے کہ تمام اہداف بروقت مکمل کیے جائیں گے ۔ دوسری جانب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل پارلیمنٹیرینز کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام کے تحت 70 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کے ساتھ فنڈز کے استعمال سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نئی ہدایات میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال کو زیادہ مؤثر اور شفافیت لانے کیلئے ہدایات جاری کی ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اس پروگرام کے تحت 300 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں ۔حکومت نے ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام پالیسی گائیڈ لائنز میں اہم ترامیم کی ہیں۔ پروگرام کا مقصد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرنا اور عوامی ضروریات کیمطابق بنیادی ضرورت اور اہم نوعیت کے منصوبے مکمل کرنا ہے تاکہ مختلف علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی دور کی جا سکے ۔ نئی گائیڈ لائنز کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا انتخاب تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکوں، گلیوں، پلوں، نکاسی آب، گیس اور بجلی سمیت مختلف شعبوں سے کیا جائے گا ۔