آئی ایس پی مسترد کرکے منصوبہ ازسرِنو بنایا جائے ، ایس ایم تنویر

آئی ایس پی مسترد کرکے منصوبہ ازسرِنو بنایا جائے ، ایس ایم تنویر

57ارب ڈالر کا نیا انفرااسٹرکچر بجلی نرخ کو بلند ترین سطح پر لے جائے گا،یوبی جی

کراچی (این این آئی)یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی)کے سرپرستِ اعلیٰ اور سابق نگران صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے نیپراپر زور دیا ہے کہ وہ انڈی کیٹو سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-35 کو مسترد کرتے ہوئے اس خامیوں سے بھرپور توانائی  منصوبے کو ازسرِنو ترتیب دے ۔ایک بیان میں ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی40ہزارمیگاواٹ نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ ملک میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب کم ہو کر 28,000 میگاواٹ رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تین برسوں سے گرڈ کی طلب میں کمی آرہی ہے اور صارفین 45 گیگاواٹ سے زائد نجی سولر پینلز نصب کرچکے ہیں، اس کے باوجود مزید 26,043 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی تجویز ناقابلِ فہم ہے۔

ایس ایم تنویر نے خبردار کیا کہ57 ارب ڈالر کی نئی بجلی پیداوار اور ترسیلی انفرااسٹرکچر ایک پہلے سے بوجھ تلے دبی ہوئی گرڈ پر مزید بوجھ ڈالے گا، یہ بحران کا حل نہیں بلکہ اسے مزید سنگین بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کے ہر بل کا 52.6 فیصد صرف کپیسٹی چارجز کی مد میں وصول کیا جارہا ہے ۔ایس ایم تنویر کے مطابق آئی ایس ایم او کی دستاویز کے سیکشن 6.2.4 میں خود اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ نیا منصوبہ بجلی کے نرخوں کو تاریخ کی بلند ترین اور ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچا دے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں