کرپٹو صارفین پر 15تا30فیصد کیپٹل گین ٹیکس لگانے کی تجویز

کرپٹو صارفین پر 15تا30فیصد کیپٹل گین ٹیکس لگانے کی تجویز

ابتدائی مراحل میں بڑی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس لگایاجائیگا،آئی ایم ایف کیساتھ مشاورت پاکستان میں 4کروڑ صارفین ، ڈیجیٹل اثاثوں میں سالانہ 300ارب ڈالر ٹریڈنگ

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ مالی سال وفاقی بجٹ میں کرپٹو صارفین پر کیپٹل گین ٹیکس لگانے کی تجویز زیرغور ہے , کابینہ کے اہم رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایات دی گئی تھی کہ کرپٹو صارفین پر ٹیکس اقدامات تجویز کیے جائیں، کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز، ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی جس نے تجاویز تیار کی ہیں، ذرائع کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں میں ڈیل کرنے والے مجموعی طور پر 4 کروڑ صارفین موجودہ ہیں اور پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں میں سالانہ حجم 300 ارب ڈالر سے زائد کی ٹریڈنگ ہو رہی ہے ، حکومت نے یہ تجویز آئی ایم ایف کیساتھ بھی ڈسکس کی ہے ،کرپٹو صارفین پر ابتدائی مرحلے میں جو تجاویز وزارت خزانہ کو موصول ہوئی ہیں ان میں 15 سے 30 فیصد تک گین ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، اس کے بعد ٹیکس شرح میں ردوبدل آئندہ مالی سال کے بعد ہو سکے گا ،حکومت ابتدائی مراحل میں بڑی ٹرانزیکشنز پر کرپٹو صارفین کیلئے گین ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے ، حکومت کی جانب سے حتمی منظوری فنانس بل 2026 میں دئیے جانے کا امکان ہے۔

چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثہ کو لیگل قرار دے کر ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا اور سٹیٹ بینک کی کرپٹو کرنسی کو غیرقانونی قرار دینے کیلئے دی گئی ایڈوائزری بھی واپس لے لی جا چکی ہے ، روپیہ کو ڈیجیٹل کرنسی میں کنورٹ کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہو سکے گی،ورچوئل ایسٹ کو ملک بھر میں ٹرانسفر اور استعمال کیا جا سکے گا،اسی طرح سے ورچوئل ایسٹ کو اشیا، خدمات اور ایکوسسٹم سے باہر خریداری کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا ،ڈیجیٹل کرنسی ورچوئل اثاثوں کیلئے پاکستان میں قائم آفسز کو جاری ہو گی جبکہ کرپٹو کرنسی کیلئے لیگل فریم ورک بھی تیار ہو چکا ہے ،پاکستان کی جانب سے ورچوئل ایسٹ ریگولٹری اتھارٹی کی دنیا بھر کی کرپٹو ایکسچینجوں کو پاکستان آنے کی دعوت اور ورچوئل ایسٹ کیلئے آئی ایم ایف، کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ، اینٹی منی لانڈڑنگ اقدامات کے مطابق ورچوئل اثاثہ ماڈل تیار کیا گیا ہے ، اینٹی منی لانڈرنگ، کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ اور سائبر سکیورٹی اقدامات کو لازم قرار دیا گیا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں