اسرائیل کا رویہ امن عمل کو سبوتاژ کر سکتا :اعجاز محمود
نیتن یاہو کو ٹرمپ کا فون اسرائیلی پالیسی پر امریکی ناراضی کاواضح اشارہ ہے معاہدہ طے پا نے پربھی عدم استحکام کا خطرہ رہے گا:’’دنیا مہر بخاری کیساتھ‘‘
لاہور (دنیا نیوز)دفاعی تجزیہ کار ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز محمود نے کہا ہے کہ اسرائیل کا رویہ امن عمل کو سبوتاژ کر سکتا ہے ۔ اسرائیل نے اس پورے معاملے میں نہ صرف امریکا بلکہ عالمی برادری کو بھی مشکل صورتحال سے دوچار کیا ہے اور امریکی امن کوششوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہر بخاری کے ساتھ‘‘ میں میزبان ثانیہ چودھری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بنیامین نیتن یاہو کو کیا جانے والا ٹیلیفون اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کا منفی رویہ ٹرمپ کو بھی مایوس کر رہا ہے ۔ ٹرمپ اپنے لئے اور امریکاکیلئے ایک محفوظ سفارتی راستہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں گریٹر اسرائیل کے تصور کے نام پر پیدا ہونے والی بے چینی کا ذمہ دار صرف اسرائیل ہے۔
اسرائیل کے امریکا کے ساتھ انتہائی گہرے تعلقات ہیں۔ دنیا بھر کے مبصرین کے مطابق صہیونی لابی کا وائٹ ہاؤس پر خاصا اثر و رسوخ ہے ، اسی لیے بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اسرائیل امریکا کی ایک چھوٹی ریاست کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور کوئی معاہدہ بھی طے پا جاتا ہے تو اس کی پائیداری ایک بڑا سوال رہے گی اور عدم استحکام کا خطرہ برقرار رہے گا۔ خطے میں امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ اسرائیلی پالیسی ہے ، جبکہ صہیونی لابی گریٹر اسرائیل کے تصور سے دستبردار ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔