نجکاری کمیٹی:پی آئی اے اراضی،عمارتوں کی الگ مالیت کی تفصیل طلب
کیسکو کی نجکاری میں مشکلات، گدو و نندی پور پلانٹس پر پالیسی کی تبدیلی زیر غور
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پی آئی اے زمین اورعمارتوں کی الگ الگ مالیت کی تفصیل طلب کر لی ، کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت ہوا جس میں حکام نے بتایا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کی نجکاری کو مالی خسارے اور انتظامی مسائل کے باعث مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس موقع پر سینیٹر بلال احمد خان نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گدو اور نندی پور پاور پلانٹس کی مجوزہ نجکاری پر مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے ۔ حکام کے مطابق پٹرولیم ڈویژن اس حوالے سے ایک سمری بھی بھجوا چکا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نجکاری کا موجودہ طریقہ کار تبدیل ہو سکتا ہے ۔
چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دئیے کہ اگر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری نہ ہوئی ہوتی تو اسے بھی آج توانائی کے شعبے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ حکام نے بتایا کہ آئندہ برسوں میں پی آئی اے کے بیڑے میں 50 سے زائد نئے طیارے شامل کیے جائیں گے ۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ بعض جائیدادیں نجکاری کے عمل کا حصہ نہیں ہیں اور انہیں پی آئی اے سی ایل سے الگ کیا جا رہا ہے جن کی مالیت کا تخمینہ ایک کمپنی نے لگایا ہے ۔ سینیٹر بلال احمد خان نے پی آئی اے زمین اور عمارتوں کی الگ الگ مالیت سے متعلق تفصیلات طلب کیں، جس پر حکام نے آئندہ اجلاس میں مکمل بریفنگ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ساتھ 14 ہزار 500 سے زائد رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ 2 ہزار 200 سے زیادہ او پی ڈی کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد اسٹیٹ لائف کے 800 سے زائد ہسپتالوں کے نیٹ ورک سے طبی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں پاکستان ریلوے ، این سی ای ایل اور کامیاب بولی دہندہ کے نمائندوں کو طلب کرکے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔