سولرسے بجلی کی پیداوارمجموعی طلب سے بھی زائد

سولرسے بجلی کی پیداوارمجموعی طلب سے بھی زائد

طلب زیادہ سے زیادہ 30 ہزار ،سولر پیداوار31 ہزار میگاواٹ سے تجاوز

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان میں مہنگی بجلی کے باعث صارفین نے نیشنل گرڈ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سولر پر انحصار بڑھا لیا۔ ملک میں مجموعی طور پر سولر کی کپیسٹی 31 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ۔ پاکستان میں گرمیوں کے دوران بجلی کی طلب 27 ہزار میگاواٹ سے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ 29 یا 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچتی ہے اور اس وقت ملک میں طلب سے زیادہ سولر لگ چکا ہے ۔ روزنامہ دنیا کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق شمسی توانائی کی مجموعی کپیسٹی، جس میں آن گرڈ اور آف گرڈ دونوں شامل ہیں، 31 ہزار میگاواٹ سے زائد ہو چکی ہے ۔ اس وقت ملک میں نیٹ میٹرنگ کی کپیسٹی 12 ہزار 296 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ 18 ہزار 900 میگاواٹ سے زائد کاآف گرڈ سولر لگ چکا ہے ۔ پاور ڈویژن حکام کے مطابق آف گرڈ سولر کی جو کپیسٹی بتائی گئی ہے ، اس کے کوئی درست اعداد و شمار موجود نہیں ہوتے بلکہ یہ اندازوں پر مبنی ہوتی ہے جس میں صارفین کی طلب اور درآمدی اعداد و شمار شامل کیے جاتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں