نیاسخت قانون تیار ،عادی مجرموں کی سزابڑھا ئی جائیگی
ابتدائی جرم پر5سال اور باربارمرتکب ہونے پر 7سال قید سنائی جاسکے گی بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی شقیں بھی شامل عادی مجرموں کو ’’اینٹی سوشل پرسن‘‘قرار دیا جائے گا،قانون کابینہ سے منظور
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت نے غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور گینگ سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے غنڈہ ایکٹ 1959 کی جگہ نیا اور سخت قانون متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت عادی مجرموں کو ’’اینٹی سوشل پرسن‘‘قرار دیا جائے گا جبکہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹیوں کو مشتبہ افراد کو اس زمرے میں شامل کرنے کے اختیارات بھی دئیے جائیں گے ۔نئے قانون میں سزاؤں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے ۔ ابتدائی جرائم پر 3 سے 5 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی جبکہ بار بار جرم کرنے والوں کیلئے سزا بڑھا کر 7 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دیتے ہوئے مشتبہ افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں،پولیس کو جدید الیکٹرانک نگرانی اور سرویلنس کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے ۔مجوزہ قانون میں ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، قبضہ مافیا کی سرگرمیوں، سائبر کرائم اور ہراسگی کو بھی باقاعدہ طور پر قابلِ سزا جرائم میں شامل کیا گیا ہے ۔صوبائی کابینہ اس قانون کی منظوری دے چکی ہے اور توقع ہے کہ اسے جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ اسمبلی سے منظوری کے بعد قانون کا باقاعدہ نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مو ثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے ۔