ٹرمپ مین آف پیس بروقت پاک بھارت جنگ بند کروائی : شہباز شریف
اہم ترین مواقع پر دونوں ملک ایک ساتھ کھڑے ، وزیراعظم ،شراکت داری کا اہم باب شروع ، بہترین وقت آنا باقی، نیٹلی بیکر برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ، اجلاس سے خطاب ، سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے وفد کی ملاقات
اسلام آباد(نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، اسی لئے انہیں’’مین آف پیس‘‘ قرار دیتاہوں ہیں۔ پاکستان اور امریکاکے تعلقات آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ دہشت گردی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں مضبوط تعاون موجود ہے۔امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے صدر ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد امریکا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا،صدر ہنری ٹرومین نے قائد اعظم کو خط لکھ کر آزادی کی مبارکباد دی تھی۔ اس وقت امریکا کی 80 بڑی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں، تربیلا ڈیم اور دیگر بڑے منصوبوں کی تعمیر میں امریکا کا تعاون حاصل ہے جبکہ پاکستانی افرادی قوت بھی امریکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
پاکستان امریکا کیلئے اپنی آئی ٹی برآمدات کو بڑھانے کا خواہاں ہے ، دونوں ملک دنیا کے اہم ترین مواقع پر ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں،گزشتہ سال صدر ٹرمپ کی فوری اور فیصلہ کن مداخلت سے پاک بھارت جنگ بندی ہوئی، ہم جنوبی ایشیا میں امن کے قیام اور لاکھوں لوگوں کی جان بچانے پر صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔تقریب میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے وزیراعظم کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں غیرمعمولی بہتری آئی ، احترام، باہمی مفادات اور سلامتی و خوشحالی کے مشترکہ اہداف پر مبنی تعلقات کو حقیقی سٹرٹیجک شراکت داری کی سطح تک پہنچانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا ، پاکستانی قیادت کے ساتھ ٹرمپ کے براہِ راست روابط دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی اعتماد اور تعاون کا مظہر ہیں، نیٹلی بیکر نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح مذاکرات کے پہلی بار اسلام آباد میں انعقاد کو بھی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے پاکستان کو یہ منفرد کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
اختتامی کلمات میں نیٹلی بیکر نے پاک امریکہ تعلقات کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری کا سب سے اہم باب ابھی شروع ہوا ہے اور بہترین وقت ابھی آنا باقی ہے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30، ایف بی آر اصلاحات اور ملکی معیشت سے متعلق 2 اجلاسوں کی صدارت کی ۔ان کا کہناتھاکہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، جدیدیت اور معیشت کی دستاویزی شکل کو یقینی بنانے کیلئے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ نیشنل ٹیرف کمیشن کی فعال اور شفاف کارکردگی ملکی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عالمی معیار کے بہترین طریقہ کار، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لا کر کمیشن میں جدت لائی جائے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت مختلف شعبوں میں مرحلہ وار ٹیرف کم کیا جائے گا تاکہ برآمدات میں اضافہ اور اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔
ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کیا جائے ، دریں اثنا شہباز شریف سے سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں اعلیٰ اختیاراتی سعودی تجارتی وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔وزیراعظم کاکہناتھاکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کی شکل دینے کا خواہاں ہے ۔ سعودی وفد پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے اہم سرکاری اور نجی شعبے کے شراکت داروں سے ملاقاتیں کرے گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم سے معاون خصوصی برائے امور قبائلی علاقہ جات مبارک زیب نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ مبارک زیب نے ضلع باجوڑ کے تعلیمی اداروں کے لیے پانچ بسوں کی فراہمی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم سے ارکان قومی اسمبلی گل اصغر خان اور راجہ اسامہ سرور نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں متعلقہ حلقوں کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔