اصل مجرم بھی بعض اوقات شک کا فائدہ ملنے پر بری ہو جاتے ہیں : لاہور ہائیکورٹ

اصل مجرم بھی بعض اوقات شک کا فائدہ ملنے پر بری ہو جاتے ہیں : لاہور ہائیکورٹ

پولیس ریکارڈ کیخلاف درخواستوں کی سماعت ،ریکارڈ ظاہر نہ کیا جائے تو کیا یہ حقائق چھپانے کے مترادف نہیں :جسٹس شہباز دیکھنا ہوگاپولیس ریکارڈ کس مرحلے پر بنتا ہے :جسٹس علی ضیا ،معاملے پر موثر قانون سازی کی ضرورت :پراسیکیوٹر جنرل پنجاب

 لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے ملک میں بعض اوقات اصل مجرم بھی شک کا فائدہ ملنے پر بری ہو جاتے ہیں، اگر کوئی سفارتخانہ کسی ادارے سے ریکارڈ طلب کرے تو کیا اسے یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ متعلقہ شخص کسی مقدمے میں نامزد تھا اور بعد میں بری ہو گیا،اگر ماضی کا ریکارڈ ظاہر نہ کیا جائے تو کیا یہ حقائق چھپانے کے مترادف نہیں ہوگا۔یہ ریمارکس  فاضل جسٹس نے مقدمات سے بری ہونے کے باوجود شہریوں کا نام پولیس ریکارڈ میں ظاہر کئے جانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔

جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے فریقین کے وکلا کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ لاہور ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق بری ہونے والے شہری کا نام پولیس ریکارڈ میں ظاہر کرنا غیر آئینی ہے ۔ جسٹس شہباز رضوی نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ پولیس ریکارڈ بن سکتا ہے یا نہیں۔ جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پولیس ریکارڈ کس مرحلے پر بنتا ہے ، آیا مقدمہ درج ہوتے ہی یا سزا ہونے کے بعد۔ جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کی قانونی تعریف کیا ہے ؟ ۔ عدالتی حکم پر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے پیش ہو کرموقف اختیار کیا کہ پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ کے حوالے سے پولیس آرڈر مکمل خاموش ہے ، معاملے پر مو ثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔عدالت نے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں