ڈائیلاسز کے ہزاروں مریض: ہرہفتے باری ملنا مشکل ہوگیا

ڈائیلاسز کے ہزاروں مریض: ہرہفتے باری ملنا مشکل ہوگیا

پنجاب میں 41 ہزار 880 مریضوں کے 18لاکھ سے زائد مفت سیشنز ہوئے 8 ارب 60 لاکھ روپے مختص جبکہ اخراجات 9 ارب 55 کروڑ سے تجاوز کر گئے

لاہور (بلال چودھری)پنجاب بھر میں گردوں کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث ہزاروں مریض ڈائیلاسز کروانے پر مجبور ہیں۔ سرکاری و نجی ہسپتالوں کے ڈائیلاسز مراکز پر مریضوں کا غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا۔ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں ڈائیلاسز مشینوں اور نشستوں کی محدود تعداد کے باعث مریضوں کو طویل انتظار کی مشکلات کا سامنا ہے ۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے ڈائیلاسز کیلئے باری ملنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ڈائیلاسز پروگرام کے تحت اب تک پنجاب بھر میں 41 ہزار 880 مریض رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک 18 لاکھ 24 ہزار سے زائد ڈائیلاسز سیشنز مفت فراہم کیے جا چکے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت گردوں کے مریض سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ نجی ہسپتالوں سے بھی مفت ڈائیلاسز کی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔ڈائیلاسز پروگرام کیلئے ابتدائی طور پر 8 ارب 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اخراجات 9 ارب 55 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے مریضوں کے پیش نظر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈائیلاسز پروگرام کیلئے مزید فنڈز بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے صوبائی وزیر صحت سپیشلائزڈ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت گردوں کے مریضوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ کسی بھی مریض کو مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا،سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کیلئے نجی ہسپتالوں کے ساتھ اشتراک کو مزید وسعت دی جا رہی ہے ۔ وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق ڈائیلاسز مراکز کی استعداد کار میں اضافہ اور نئی مشینوں کی فراہمی پر کام جاری ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں