بلوچستان کیلئے رعایتی پٹرول کراچی میں فروخت ہونے لگا، صوبے میں قلت
پٹرول پمپس کو 14روپے لٹر رعایت کا ناجائز استعمال،غیرقانونی منافع کیلئے قیمت 600روپے پہنچنے کی خبریں پھیلائی جارہیں براستہ کتانی چابہار ریفائنری سے تیل سمگلنگ کاراستہ بند کیاتاکہ دہشتگردی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی روک تھام ہوسکے :حکام
اسلام آباد(دنیا رپورٹ) بلوچستان میں پٹرول پمپس کو فی لٹر 14 روپے کی خصوصی رعایت کا مبینہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی قلت پیدا کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق رعایتی پٹرول بلوچستان کے نام پر کراچی سے خریدا جا رہا ہے مگر اسے بلوچستان منتقل کرنے کے بجائے کراچی میں ہی فروخت کیا جا رہا ہے جس کے باعث صوبے میں پٹرول بحران شدت اختیار کر گیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں روزانہ پٹرول کی ضرورت تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ لیٹر ہے ۔ ماضی میں گوادر کے قریب کتانی کے راستے ایران کی چابہار ریفائنری سے تیل سمگل ہو کر آتا تھا تاہم دہشتگردی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی روک تھام کیلئے سکیورٹی اداروں نے یہ راستہ بند کر دیا اور مختلف چوکیاں قائم کیں۔
اس دوران پاکستان کوسٹ گارڈز کے دو اہلکار بھی شہید ہوئے ۔ذرائع کے مطابق اب بلوچستان کی ضروریات آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے پوری ہونا تھیں مگر مبینہ طور پر مافیا 14 روپے فی لٹر رعایت حاصل کرکے پٹرول کراچی میں ہی فروخت کر رہا ہے ۔ غیر قانونی منافع برقرار رکھنے کیلئے بعض عناصر بلوچستان میں پٹرول کی قلت اور قیمت 600 روپے فی لٹر تک پہنچنے کی خبریں بھی پھیلا رہے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے ان راستوں پر مؤثر نگرانی کا فیصلہ کر رکھا ہے کیونکہ انہی راستوں کے ذریعے دہشتگردی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو کتانی روٹ دوبارہ کھولنے کے بجائے کراچی سے بلوچستان تک ایندھن کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔