مہنگائی بے قابو،مٹن2800دودھ250روپے کلو،سبزیاں بھی پہنچ سے باہر

مہنگائی  بے  قابو،مٹن2800دودھ250روپے  کلو،سبزیاں  بھی  پہنچ  سے  باہر

پیاز 110، ادرک 500، سیب 700،ٹماٹر90، بھنڈی110روپے کلو، دودھ پتی 120روپے کپ فروخت بجلی، گیس،یوٹیلیٹی بلز کے بوجھ نے تنخواہ دار طبقے کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا، ڈھابوں پر کھانا 250روپے ہوگیا

اسلام آباد (سید قیصر شاہ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ضروریاتِ زندگی کی اشیا عام آدمی سے لے کر سفید پوش طبقے کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں۔ رہی سہی کسر بجلی، گیس سمیت یوٹیلیٹی بلز نے نکال کر رکھ دی ۔ چھوٹا گوشت 2800 اور بڑا گوشت بغیر ہڈی کے 1800روپے کلو ، تازہ دودھ 250 روپے لٹر تک جا پہنچا، اب دودھ خریدنا بھی مشکل ہو گیا ۔ دوسری جانب موسمی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پیاز 110، ٹماٹر 90، ادرک 500، لہسن 400، آلو 50، مٹر 160، شملہ مرچ 200، بند گوبھی 120، بھنڈی 110، سبز مرچ 100، بیگن 90 اور کدو 100 روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ کیلا درجہ اول 350، درجہ دوم 280، آم سنڈھری 280، تربوز 60، سیب 700، آلو بخارا 600 اور خوبانی 400 روپے کلو دی جا رہی ہے ۔ اسی طرح دالیں، چاول اور مصالحہ جات بھی مہنگے ہیں۔ کھوکھوں اور ڈھابوں پر چائے 80 جبکہ دودھ پتی 100 سے 120 روپے فی کپ دی جانے لگی ۔ ایک وقت کا کھانا بھی اب چھپر ہوٹل اور ڈھابے سے 250 روپے سے کم نہیں۔ ایسے میں سفید پوش اور تنخواہ دار طبقہ مسائل کی زنجیروں میں بری طرح جکڑا ہوا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں