گندم کا ضیاع ، چوری پختونخوا میں آٹا بحران کی بڑی وجہ قرار

 گندم کا ضیاع ، چوری پختونخوا میں آٹا بحران کی بڑی وجہ قرار

2024کے دوران گوداموں میں 77ہزار میٹرک ٹن گندم ضائع، 11ارب کا نقصان پختونخوا کو سالانہ 5.3ملین میٹرک ٹن سے زائد گندم درکار، مقامی پیداوار کم

پشاور (دنیا رپورٹ)خیبرپختونخوا میں گندم اور آٹے کے بحران کے معاملے پر صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی پالیسیوں اور گرین کارپوریٹ انیشیٹو (جی سی آئی) کو  ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ، تاہم دستیاب اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے مطابق بحران کی بنیادی وجوہات ناقص منصوبہ بندی، کمزور انتظامی نگرانی، گندم ذخائر کا ضیاع اور خریداری کے نظام میں بے ضابطگیاں ہیں۔رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت حالیہ ہفتوں میں مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ گندم بحران وفاقی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ، لیکن حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلے کی جڑ صوبائی سطح پر خوراک کے انتظام اور پالیسی سازی میں موجود خامیاں ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کو سالانہ تقریباً 5.307 ملین میٹرک ٹن گندم درکار ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں صوبے کی سالانہ پیداوار صرف 1.632 ملین میٹرک ٹن ہے ، جس کے باعث ہر سال تقریباً 3.675 ملین میٹرک ٹن گندم دیگر صوبوں سے حاصل کرنا پڑتی ہے ۔دستاویزی شواہد کے مطابق 2024 کے دوران صوبے کے مختلف سرکاری گوداموں میں تقریباً 77 ہزار میٹرک ٹن گندم ضائع ہوئی جس سے 11 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ دسمبر 2024 میں نوشہرہ کے ازاخیل گودام سے 1500 میٹرک ٹن جبکہ جنوری 2025 میں مزید 1840 میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ بنوں اور سوات کے گوداموں میں بھی ایک ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم کی چوری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں