این ایف سی میں کٹوتی پر سرپلس بجٹ دینا مشکل :مزمل اسلم
وفاق اور صوبوں میں کوآرڈی نیشن کی کمی بجٹ تیاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف کیساتھ تاحال معاملات مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے :مشیر خزانہ پختونخوا
اسلام آباد (مدثر علی رانا)مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے خبردار کیا ہے کہ اگر این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کٹوتی کی گئی تو صوبائی حکومتوں کیلئے سرپلس بجٹ دینا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کی کمی آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی کئی معاملات تاحال طے نہیں ہو سکے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی حصے سے متعلق نیا مؤقف سامنے آیا ہے ، جس کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈویژیبل پول سے صوبوں کو موجودہ مالی سال کے برابر رقم دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں صوبوں کا مجموعی این ایف سی حصہ 8 ہزار 207 ارب روپے ہے اور وفاق چاہتا ہے کہ آئندہ سال بھی تقریباً یہی رقم دی جائے جبکہ اضافی محصولات اپنے پاس رکھے جائیں، جس پر صوبوں کو شدید تحفظات ہیں۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں حکومتی وفد سے بجٹ امور پر مذاکرات ہوئے تاہم متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ خیبرپختونخوا میں چترال روڈ منصوبے کیلئے 70 ارب روپے کے منصوبے میں صرف 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ گلگت بلتستان کیلئے ترقیاتی فنڈز 13 ارب سے بڑھا کر 19 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔