ایران، امریکا کشیدگی پر تشویش، امن کو ایک اور موقع دیا جائے ، پاکستان
چیلنجز سے نہ صرف بخوبی آگاہ ، فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں ، کوششیں مثبت انداز میں جاری رکھی جائینگے بھارت پانی روکنے سے باز رہے ، ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈالیں گے ، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)ایران امریکہ مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان اب بھی پرامید ہے ، ایران ، امریکا دوبارہ حملوں کے تبادلے کے بعد ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان مذاکرات میں چیلنجز سے نہ صرف بخوبی آگاہ ہے بلکہ فریقین کے ساتھ رابطے میں بھی ہے ،پاکستان اپنی کوششوں کو مثبت انداز میں جاری رکھے گا۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تشویش ہے ، ہم فریقین سے کہتے ہیں کہ امن کو ایک اور موقع دیا جائے ، پاکستان پُرامن طریقے سے مسائل کے حل کے لیے پُرامید ہے ۔ ثالثی کی کوششیں جاری رہیں گی ، مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کے حل کے لئے محسن نقوی نے ایران کا دورہ کیا اور اسحاق ڈار بھی خطے کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہیں۔
دفتر خارجہ نے آزاد کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کے ریمارکس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقِ خودارادیت سے انکار کر رہا ہے ، وہ ایسے بیانات کے ذریعے جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل سے توجہ ہٹا نا چاہتا ہے ، پاکستان آزاد جموں و کشمیر کے مسائل کو جمہوری اور آئینی فریم ورک کے دائرے میں رہ کر حل کر رہا ہے ، اگر ہندوستان اس بات پر واقعی یقین رکھتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ حل ہو تو کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دے ، بھارتی وزیر کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کرنے پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے بھارتی وزیر سے منسوب بیان دیکھا جو مستقبل میں پاکستان میں پانی کے بہاؤ سے متعلق ہے ، پانی کو روکنے یا کافی حد تک کم کرنے کی کوئی بھی کوشش 250 ملین سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں سے جڑی ہے ، پاکستان سختی سے اس کو مسترد کرتا ہے، ہندوستان کے یہ اقدامات جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور ایسے نتائج کی ذمہ داری پوری طرح بھارت پر آئے گی ،آبی وسائل کے حوالے سے پاکستان کے حقوق اور مفادات پر کوئی سمجھو تا نہیں کیا جا سکتا۔
ہم بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام دستیاب سفارتی، قانونی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر اقدامات کے ذریعے ان حقوق کا بھرپور طریقے سے دفاع کریں گے ، صومالیہ میں پاکستانی شہری تقریباً 50 روز سے قزاقوں کے قبضے میں ہیں، جن کی رہائی کے لئے حکومت پاکستان تمام ممکنہ سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے ، تاہم صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے ،طاہر اندرابی کے مطابق اسلام آباد میں صومالی سفیر کو بھی طلب کر کے اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔