پلاسٹک مصنوعات،کراکری،خوردنی تیل مہنگا تنخوا ہوں،پنشن میں7فیصد اضافہ،ٹیکس ریلیف

پلاسٹک  مصنوعات،کراکری،خوردنی  تیل  مہنگا  تنخوا ہوں،پنشن  میں7فیصد  اضافہ،ٹیکس  ریلیف

پاستا، نوڈلز،کیچپ، خمیر شدہ مشروبات، پیٹرولیم جیلی، موم، کیڑے مار وجراثیم کش ادویات، جوتے ،باتھ روم فٹنگز، سینیٹری سامان،پیک شدہ دودھ، بچوں کی خوراک،بالوں کی مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا، لگژری الیکٹرک گاڑیاں، ای سگریٹس بھی مہنگے 50 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس، بیرون ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس،خواتین کے سینیٹری پیڈز اور خاندانی منصوبہ بندی کی اشیاء پر ٹیکس ختم،بیرون ملک سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی،کم سے کم تنخواہ 40 ہزار 700 روپے مقرر ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈز کے بیرون ملک استعمال پر ایڈوانس ٹیکس 5 فیصد کی بجائے 0.5 فیصد، چھوٹے دکاندارسالانہ سیلز کا1فیصد ٹیکس دیں گے ، بینظیر انکم سپورٹ کی رقم میں 17 فیصد اضافہ،18 ہزار 771 ارب کا بجٹ :وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب

اسلام آباد(رپورٹنگ ٹیم )قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا، جس میں تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد جبکہ کم سے کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی، ایف بی آر کے محصولات کاتخمینہ 15ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے ، ہائوسنگ و زراعت سمیت قومی معیشت کے مختلف شعبہ جات کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے ، دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 3ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں،سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے مختص کیا گیا ہے ، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا اتحادی جماعتوں کا شکر گزار ہوں، حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بنیان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے ، گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے ، بہت سارے ممالک ہمارے لڑاکا طیارے اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے ، سعودی عرب کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ دفاعی معاہدے سے مضبوط ہوا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مالی سال میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنے آئی، ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جوکہ نیاسنگ میل ہے ، جبکہ فی کس آمدنی1751 ڈالرسے بڑھ کر1901 ڈالرہوگئی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالرتھے جو بڑھ کر17 ارب ڈالرسے زائد ہوچکے ہیں، زرمبادلہ ذخائر تین مہینوں کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھیں، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زرکا حجم 38ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے ، سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے ، تین سالوں میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں 2 فیصد اضافہ ہوا، مالیاتی خسارہ جون 2023 میں جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا، مالیاتی خسارہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4فیصد تک آجائے گا۔وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی7فیصد اضافے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت کم سے کم تنخواہ میں 3 ہزار 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ، جس کے بعد کم سے کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔وزیر خزانہ کے مطابق آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز ہے ۔اس سلسلے میں جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ کے درمیان کماتے ہیں ان کی ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جا رہی ہے ۔32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔

اسی طرح 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والے افراد کیلئے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والے افراد کیلئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔انہوں نے کہا تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرح میں کمی کے علاوہ ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور حکومت کو بھی اس کا احساس تھا، گزشتہ بجٹ میں اس سرچارج کی شرح کو 10 فیصد سے 9 فیصد کیا گیا اور اب اس کو مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی کی6 سلیبز پرعائد سیلز ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے 7 فیصد تک تھا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ،جبکہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے ، تاہم بینکوں، تیل، گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد بنانے والے کارخانوں پر موجودہ سر چارج برقرار رہے گا۔انہوں نے کہا کہ کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے ، اس ٹیکس کو ختم کرنے سے پاکستانیوں کو اپنی غیر ملکی مالیاتی حیثیت ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

 

وزیرخزانہ نے کہا فری لانسرز، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ ہمارا اثاثہ ہیں،ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کی برآمدات کی آمدن پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی تھی تاہم اب اسے مزید تین سال کیلئے یعنی 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے ،اس اقدام سے ہماری آئی ٹی برآمدات، ریمیٹنسز اور نوجوانوں کو اس شعبے کی جانب راغب ہونے کی ترغیب ملے گی۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا وفاقی بجٹ میں 20 کروڑ روپے تک سالانہ مال فروخت کرنے والے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس لگانے کی بھی تجویز ہے ، اس سکیم کو فکسڈ ٹیکس آسان سکیم کا نام دیا گیا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سکیم تاجر کمیونٹی کی مشاورت کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہے ۔ 20 کروڑ روپے تک یا اس سے کم کی سالانہ آمدن پر انہیں 25 ہزار روپے سالانہ جمع کرانا ہو گا، اس نظام کے تحت اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کرینگے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ میں تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار کو وسعت دی جا رہی ہے اور اس میں فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز کی کیٹگری کو شامل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے تحت نیشنل فیس لیس مراکز بنانے جا رہے ہیں جو صوابدیدی اور غیر صوابدیدی افعال کو ایک دوسرے سے الگ کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں پہلا قدم جعلسازی کیخلاف اٹھایا جا رہا ہے ، پیٹرولیم بیسڈ محلول جن میں سفید سپرٹ، پیٹرولیم نفتھا اور منرل تارپین آئل پر 80 روپے فی لٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے ، یہ اشیاء پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں لیکن انہیں تیل میں ملاوٹ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔

اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہے ،اس کی وجہ سے تیل کی مصنوعی فروخت کرنے والے دیانتدار تاجروں کو ایسے بددیانت تاجروں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو ملاوٹ شدہ تیل فروخت کرتے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا درآمد کی جانے والی کاروں اور 2 ہزار سی سی سے 3 ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کی ایس یو ویز پر 66 فیصد ڈیوٹی عائد ہو گی۔ اس ٹیکس کا اطلاق بڑے انجن والی درآمدی سی بی یو پر بھی ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایک اور ریلیف اقدام کے طور پر بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز ہے ، اس کا مقصد پاکستان اپنی معیشت کو درکار سرمایہ کاری اور شراکت داری کیلئے ایک پرکشش ملک بن سکے جو ہماری اقتصادی پالیسی کی ترقی کیلئے ضروری ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا آٹو سیکٹر ہماری معیشت کے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے ، اس شعبے کی ترقی کیلئے گزشتہ ایک دہائی میں مختلف ترقیاتی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے اس صنعت کو فروغ ملا اور ملک میں اسمبل او ای ایمز کی تعداد بڑھ کر 118 ہو گئی، ان میں ٹریکٹر، موٹر سائیکل، مسافر گاڑیوں اور کمرشل گاڑیوں کے مینوفیکچررز شامل ہیں۔

اس وقت ایک نئی آٹو سیکٹر پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے جس کی تفصیلات وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائیں گی ،تاہم ان میں الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں میں موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا، اس سلسلے میں درآمد کئے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے ، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی منصفانہ فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے ہماری وابستگی غیر متزلزل ہے ، کینسر جیسے موذی امراض کی وجہ سے پاکستانی خاندانوں پر پڑنے والے شدید مالی بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت ایک نپی تلی اور موثر علاج کی سہولت متعارف کرا رہے ہیں جس کے تحت حکومت کینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والی 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل ختم کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں کو گلوبل ویلیو چینجز میں شامل کرنے اور کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے گزشتہ سال ایک جامع قومی ٹیرف پالیسی کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا گیا تھا۔

تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد خام مال اور متعلقہ اشیاء کی ایک بڑی تعداد پر کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے ، اس قومی فرض کیلئے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے ، یہ رقم گزشتہ سال کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے ۔ دفاعی بجٹ میں پاکستان آرمی کیلئے 128 ارب روپے ، نیوی کیلئے 293 ارب روپے اور پاکستان ایئر فورس کیلئے 573 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ دفاعی پیداوار کے ادارے کیلئے 848 ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ، علاوہ ازیں وزارت دفاعی پیداوار کیلئے 1 ارب 14 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ،حکومت کے مطابق دفاعی اخراجات میں یہ اضافہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور مسلح افواج کی آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری کے لیے کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کے دوران ملکی دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے رکھا گیا تھا جو نظر ثانی بجٹ کے تحت بڑھا کر 2595 ارب روپے کر دیا گیا،بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں ملٹری پنشن کی مد میں 822 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا آئندہ مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ افراط زر کی شرح 8.2 فیصد، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا2فیصد ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے جو رواں مالی سال سے 17.6 فیصد زائد ہے ۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار848 ارب روپے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے کچھ قومی تقاضوں کو اجتماعی طور پر پورا کرنے کیلئے ایک انتظام پر اتفاق کیا ہے جس کے ملکی سطح پر مثبت اثرات ہونگے ، یہ انتظام تعاون پر مبنی کوآپریٹو فیڈرل ازم کے جذبے کے تحت اور صوبائی حکومتوں کے آئینی حقوق کو متاثر کئے بغیر طے پایا ہے ۔

اس انتظام کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبائی حکومتوں کا حصہ بدستور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے مطابق رہے گا، مالی سال 2026-27ء کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے محصولات کی متوقع وصولی 15 ہزار 264 ارب روپے ہے تاہم سٹرٹیجک قومی تقاضوں کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں تقسیم کیلئے کم از کم 13 ہزار 350 ارب روپے کی رقم محفوظ رکھی گئی ہے ۔ 15 ہزار 264 ارب روپے تک وصول ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو پاکستان کے آئین 1973ء کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے گرانٹس کی صورت میں قومی سٹرٹیجک تقاضوں کی تکمیل کیلئے دستیاب ہو گی، یہ انتظام آئندہ مالی سال کیلئے نافذ العمل ہو گا اور مالی سال 2027-28 اور 2028-29ء میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی باہمی مشاورت سے اسی نوعیت کی بنیادوں پر اس کی تجدید کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے جس میں 8 ہزار 54 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے مختص ہونگے ۔ سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے ، وفاقی حکومت کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے ، اس قومی فرض کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، پنشن کے اخراجات کیلئے ایک ہزار 169 ارب روپے اور بجلی و دیگر شعبوں میں سبسڈی کیلئے ایک ہزار 91 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گرانٹس کی مد میں 2 ہزار 680 ارب مختص کئے گئے ہیں جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے ہیں۔وزیراعظم اپنا گھر سکیم کیلئے 71 ارب روپے ، ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کی توسیع کیلئے 88 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فلیگ شپ انیشیٹو کا دائرہ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا، تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریباً 92 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے ۔آئندہ مالی سال میں بی آئی ایس پی کیلئے 8 سو 38 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو رواں سال سے 17 فیصد زائد ہے ۔بعد ازاں سینیٹ کااجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل 2026 کی کاپی اور سالانہ بجٹ کھاتے ایوان میں پیش کیے ۔ چیئرمین سینیٹ نے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ بجٹ پر اپنی سفارشات سینیٹ قائمہ کمیٹی فنانس کو پیر کے روز 15 جون تک پیش کریں، جبکہ قائمہ کمیٹی فنانس اپنی سفارشات جمعے کے روز 19 جون تک ایوان میں پیش کرے گی۔قائمہ کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو منظوری کیلئے قومی اسمبلی کو بھجوا یا جائے گا۔ سینیٹ اجلاس پیر کے روز دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش فنانس بل 2026-27 کے مطابق ایف بی آر کیلئے 15 ہزار 264 ارب روپے کا بلند ترین ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے ، جس کے حصول کیلئے 650 ارب روپے اضافی محصولات نئے ٹیکس اقدامات، انتظامی اصلاحات اور سخت نفاذی کارروائیوں کے ذریعے حاصل کئے جائیں گے ۔بجٹ میں 360 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ ایف بی آر حکام کے مطابق 400 ارب روپے اضافی آمدن انفورسمنٹ اقدامات سے جبکہ 250 ارب روپے نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ٹیکس وصولیاں تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ جائیں گی، جبکہ معاشی نمو اور مہنگائی کی بنیاد پر اگلے مالی سال میں یہ حجم 14 ہزار 600 ارب روپے تک جا سکتا ہے ، باقی 650 ارب روپے نئے اقدامات سے حاصل کیے جائیں گے ،سیلز ٹیکس تھرڈ شیڈول میں 36 نئی اشیا کو شامل کر لیا ہے جس سے 70 ارب روپے اضافی محصولات حاصل ہونے کی توقع ہے ،اس شیڈول کے تحت ان تمام اشیا پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو جائے گا،ان اشیاء میں پیک شدہ خوردنی تیل، چکنائیاں، شوگر کنفیکشنری، پاستا، نوڈلز، ساسز، کیچپ، مسٹرڈ، خمیر شدہ مشروبات، پیٹرولیم جیلی، موم، کیڑے مار ادویات، جراثیم کش ادویات، پلاسٹک مصنوعات، گھریلو پلاسٹک سامان، بیگز، سوٹ کیسز، ہر قسم کے جوتے ، باتھ روم فٹنگز، سینیٹری سامان، کراکری، گاڑیوں کے لوازمات، پیک شدہ دودھ اور دودھ سے تیار مصنوعات، بچوں کی خوراک، بالوں کی مصنوعات اور دیگر فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز شامل ہیں ،ان اشیاء پر سیلز ٹیکس ریٹیل قیمت کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا۔

ای سگریٹس میں استعمال ہونے والے ای لیکوئیڈ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10 ہزار روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16 ہزار 500 روپے فی کلوگرام کر دی گئی ہے ، نیفتھا، سالونٹ آئل اور تارپین پر نئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے جس سے 30 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے ،لگژری الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر مہنگی گاڑیوں پر اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس سے 25 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے ، ایف بی آر کے مطابق دو کروڑ سے تین کروڑ مالیت کی گاڑی پر 30 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جبکہ 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑی پر 40 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہو گی۔حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس سلیب میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں، تاہم 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس شرح 1 فیصد جبکہ12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے آمدن پر شرح 11 فیصد رہے گی۔برآمدی آمدن پر ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کی مجموعی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے ۔حکومت نے بیرون ملک منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر عائد ایک فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا ہے ۔چھوٹے تاجروں کو ریلیف دیتے ہوئے ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ کیلئے سالانہ کاروباری حد 10 کروڑ روپے سے بڑھا کر 20 کروڑ روپے کر دی گئی ہے ، ایف بی آر کے پاس صرف چھ لاکھ ریٹیلرز رجسٹرڈ ہیں جبکہ ملک میں مجموعی طور پر ریٹیلرز کی تعداد تقریباً 38 لاکھ تک ہے ۔

بینکوں اور الیکٹرانک منی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بڑے مالیاتی لین دین، جمع شدہ رقوم اور نکاسیوں کی معلومات الیکٹرانک طور پر ایف بی آر کو فراہم کریں گے تاکہ ٹیکس گوشواروں سے موازنہ کر کے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے ۔ایف بی آر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص کاروباری اداروں کو اپنے سسٹمز ایف بی آر کے ساتھ مربوط کرنے اور رئیل ٹائم ٹرانزیکشن رپورٹنگ یقینی بنانے کا پابند بنا سکے ، دیگر اہم اقدامات میں غیر ملکی ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات کی ادائیگیوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، شفا، بحریہ فاؤنڈیشن، سی آئی یو ٹی اور دیگر فلاحی اداروں کو ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کی گئی ہے ، گلابی ٹیکس اور مانع حمل ادویات پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے صفر کر دیا گیا ہے ،الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ 30 جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہے ، کھیلوں اور الیکٹرولائٹ مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی گئی ہے ، بیرون ملک سفر کیلئے بزنس کلاس کی ٹکٹ کی خریداری پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے ۔ پاکستان سے امریکا کیلئے بزنس کلاس ایئرٹکٹس کی خریداری پر ایف ای ڈی 3 لاکھ 50 ہزار سے کم کر کے 50 ہزار تجویز کی گئی ہے جبکہ مشرق وسطٰی اور افریقی ممالک کیلئے بزنس کلاس ٹکٹ کی خریداری پر 1 لاکھ 5 ہزار سے کم کر کے 25 ہزار، یورپ کیلئے بزنس کلاس ٹکٹ کی خریداری پر 2 لاکھ 10 ہزار سے کم کر کے 40 ہزار روپے اور آسٹریلیا کیلئے بزنس کلاس ٹکٹ کی خریداری پر 2 لاکھ 10 ہزار سے کم کر کے 40 ہزار روپے ایف ای ڈی عائد کی جارہی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں