بلاول ناراض،بجٹ اجلاس سے آؤٹ،پی پی ارکان کا ایوان میں احتجاج:سندھ کو پانی دو کے پلے کارڈ لہرا دیئے
اسحاق ڈار،اعظم نذیر تارڑ بلاول کو منانے میں ناکام، محسن نقوی ایوان میں لائے ،تقریر شروع ہوتے ہی چلے گئے عمران کیخلاف عدم اعتماد پر طے کیا تھا جہاں اکثریت وہاں ن لیگ کی حکومت ،ہمیں حق سے محروم رکھا گیا:بلاو ل
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جیسے ہی بجٹ تقریر شروع کی تو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ایوان سے چلے گئے ، بجٹ اجلاس سے قبل بلاول بھٹو کی بجٹ اجلاس میں عدم شرکت کی اطلاع دی گئی جس کے بعد حکومتی ٹیم نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ کی قیادت میں بلاول بھٹو کو منانے ان کے چیمبر پہنچ گئی، ملاقات میں بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ پی پی پی پی کے چند ارکان صرف ٹوکن کے طور پر اجلاس میں شرکت کریں گے ۔کچھ دیر بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، بلاول کے چیمبرمیں گئے جس کے بعد انہوں نے اپنے تمام ارکان سمیت بجٹ اجلاس میں شرکت کی،پی پی پی کے ارکان نے سندھ میں پانی کے ایشو پراحتجاج کیا اور ایوان کے اندر اور باہر پلے کارڈ لہرا دئیے جن پر سندھ کو پانی دو کے نعرے درج تھے ، بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی بلاول واپس چلے گئے ، اس سے قبل پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت ہوا جس میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان اور شا زیہ مری ، فاروق ایچ نائیک ،اعجاز جاکھرانی اور دیگر شریک تھے ، بلاول نے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دو علاقے ہیں جہاں بہت سنجیدہ پیشرفت ہو رہی ہے ،کشمیر کی صورتحال یقیناً بہت پریشان کن ہے ،عالمی سطح پر اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے چاہے وہ افغانستان کے ذریعے ہو چاہے وہ بلوچستان میں ہو ، شک ہے کہ کشمیر اور دوسرے علاقوں میں بھی کوشش کر رہا ہے ۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر میں جو صورتحال ہے وہ عمران خان اور جنرل (ر) فیض کے دور میں شروع ہوئی ، کشمیر انتخابات میں پی پی پی نے زبردست کارکردگی دکھائی تھی اور عمران خان نے جو سیٹیں پاکستان میں ہیں انہیں استعمال کرکے ہمارے حق پر ڈاکہ مارا اور وہاں ایک کٹھ پتلی حکومت بنا دی، وہ کٹھ پتلی حکومت کشمیر میں ایسے ہی چلی جیسے وفاق میں عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت تھی ، جب ہم وفاق میں عدم اعتماد لے کر آئے تھے اس وقت بھی پی پی پی نے ن لیگ کے ساتھ طے کیا تھا کہ جہاں آپ کی زیاد سیٹیں ہیں وہاں آپ کا حق ہے ، آپ حکومت بنائیں ہم آپ کی حمایت کریں گے ۔ وفاق میں ان کی حکومت بنتی تھی، پنجاب میں ان کی بنتی تھی۔ آزاد کشمیر اور جی بی میں پی پی پی کا حق تھا، پی ڈی ایم کے دور میں بھی مجھے میرے حق سے محروم رکھا گیا، میں ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں کہ کسی صاحب نے میرے والد کو فون کیا کہ ہم یہ افورڈ نہیں کر سکتے کہ آزاد کشمیر کا ایک ایسا وزیراعظم ہو جو ہر بات پر چیئرمین پیپلزپارٹی کو فون کرے ۔
ایف بی آر نہ صوبہ سندھ کے ریونیو جنریشن کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ بلوچستان کا ،پنجاب اور کے پی کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تو اس سے بہتر ہے کہ ایف بی آر بند ہو جائے اور اپنے سارے اختیارات صوبائی ریونیو بورڈز کو دے دیں ۔ بلاول نے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے چیف الیکشن کمشنر جی بی کو استعفیٰ دینا چاہیے ،وزیراعظم نے کہا ہے وہ ہمارے اعتراضات دور کریں گے ، انہوں نے کہا کہ جی بی میں ہمارا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،چیف الیکشن کمشنر جی بی کو نہیں چھوڑوں گا، بلاول نے کہا کہ آزادکشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے جو مطالبات ہیں وہ ہمارے بھی ہیں، قانون کے دائرے میں پُرامن احتجاج کریں۔بلاول نے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے چیف الیکشن کمشنر جی بی کو استعفیٰ دینا چاہیے ،وزیراعظم نے کہا ہے وہ ہمارے اعتراضات دور کریں گے ، انہوں نے کہا کہ جی بی میں ہمارا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،چیف الیکشن کمشنر جی بی کو نہیں چھوڑوں گا، بلاول نے کہا کہ آزادکشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے جو مطالبات ہیں وہ ہمارے بھی ہیں، قانون کے دائرے میں پُرامن احتجاج کریں۔