معاشی استحکام کے حکومتی دعوے ، عوام کو ریلیف کا انتظار
معاشی اشاریوں کی بہتری کے باوجود اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے
(تجزیہ:سلمان غنی)
وزیراعظم شہباز شریف معاشی چیلنجز کے باوجود بجٹ کو بہتر اور اسے معیشت کو مزید بہتری کی طرف لے جانے کا ضامن قرار دیتے نظر آ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اپوزیشن قومی بجٹ کو اشرافیہ کا بجٹ قرار دیتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دینے پر کاربند ہے لیکن غیر جانبدار ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ تو مکمل طور پر زبردست کامیابی یا محض فسانہ اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندا قرار دینا قبل از وقت ہوگا ، اگر آنے والے دنوں میں مہنگائی قابو میں رہتی ہے اور عوام کیلئے کوئی ریلیف کا بندوبست ہوتا ہے تو حکومتی دعوؤں میں وزن ہوگا بصورت دیگر ناقدین کا موقف مضبوط ہو جائے گا کہ بجٹ کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے البتہ بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے 7فیصد کے اضافے کو ریلیف ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔
لیکن یہ اضافہ بھی مہنگائی کی شرح سے مطابقت نہیں رکھتا ،کم از کم اجرت میں دس فیصد اضافہ کو بھی مسائل زدہ لوگوں کیلئے ریلیف کا باعث قرار دیا جا سکتا ہے ،ویسے بھی بجٹ کی کامیابی کا اصل معیار عوام کی قوت خرید اور روزگار کی فراہمی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور مالیاتی اہداف کا حصول ہوتا ہے ، بحرحال وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کریڈٹ ضرور ہے کہ انہوں نے معیشت کو خطرناک زون سے نکالا اور اسے ترقی کی شاہراہ پرگامزن کیا، آج عملاً دیکھا جائے تو معاشی اشاریے تو بہتر نظر آتے ہیں لیکن ان کے اثرات عام آدمی کی حالت زار پر نظر نہیں آتے البتہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں حد تک کمی ہوئی ہے ،آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کے ڈیفالٹ کے خطرات کم کئے ہیں لیکن اصل سوال شروع سے یہی رہا ہے کہ اس معاشی استحکام کا عوام کو کتنا فائدہ ملا کیونکہ جب تک عام شہری کی زندگی میں بہتری نہیں آتی تب تک معاشی صورتحال پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں جہاں کابینہ کو بجٹ کے اہم خدوخال اور اقدامات پر اعتماد میں لیا وہاں انہوں نے آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس پر ایم ڈی آئی ایم ایف کے اطمینان کا بھی ذکر کیا ،تلخ حقیقت یہی ہے کہ آئی ایم ایف نے ہی پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچا رکھا ہے ۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجہ میں ہی عوام پر مہنگائی ٹیکسوں اور بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی پڑا ، خود حکومت کے اپنے ہی بجٹ پر کافی حد تک عمل درآمد نظر تو آتا ہے لیکن تمام اہداف کا حصول آسان نہیں ،آئندہ چھ سے بارہ ہفتوں میں ہی پتہ چل جائے گا کہ حکومت کا بجٹ کس حد تک حقیقت پسندانہ ہے ،بجٹ کے موقع پر اپوزیشن نے حسب روایت ایوان میں سخت احتجاج کیا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن حکومتی بجٹ کا جائزہ لیکر اس کی حقیقت اور ترجیحات کو ایکسپوز کرے تاکہ حتمی شکل ملنے تک اس میں تبدیلیوں کی گنجائش رہے ۔