بجٹ میں غریب نہیں اشرافیہ کو ریلیف ملا:پیپلزپارٹی،ملک خوشحالی کی جانب گامزن:حکومتی ارکان
بجلی،پٹرول خطے سے مہنگا،سموسہ 40کا، نوجوان کی قیمت 32روپے ،کیا 8ہزار کمانے والا گھر چلا سکتا؟شرمیلا فاروقی و دیگر،تبدیلی کا ڈرامہ رچایا گیا:شاہد خٹک مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر،عوام کو ریلیف پر مبنی بجٹ دیا :عطا تارڑ، وز یراطلاعات نے حقائق کو مسخ کیا :اسد قیصر، وزرا گیس،بجلی کے بلز خود ادا کرتے :وزیر قانون
اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے ، نامہ نگار، آئی این پی )قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ حکومتی ارکان نے بجٹ کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک خوشحالی کی جانب گامزن ہے ۔ پیپلز پارٹی ارکان نے کہا کہ بجٹ میں غریب نہیں اشرافیہ کو ریلیف ملا، پی پی کی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کریڈٹ کاردڑ ہولڈرز، فرسٹ کلاس سفر کرنے والوں کو ریلیف دیا گیا، 2050میں 390ملین آبادی ہو جائے گی، یہ سوشو اکنامک ڈیزاسٹر ہے ، ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے ۔ بجلی اور پٹرول کی قیمتیں پورے خطے سے زیادہ ہیں، وزرا کو میڈل دئیے جارہے ہیں، کیا 8000 روپے کمانے والا شخص گھر چلا سکتا ، خط غربت کی تعریف کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہئے ، 8000 روپے والی خط غربت کی تعریف تبدیل ہونی چاہئے ، نوجوان کی قیمت 32 روپے لگا دی ہے جبکہ اسلام آباد میں سموسہ چالیس روپے کا ملتا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے عوام کو ریلیف پر مبنی بجٹ دیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے ، مزدور، کسان، ایکسپورٹرز، خواتین اور متوسط طبقے سمیت ہر شعبے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی، مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ چکی ہے ، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جس میں فری لانسرز کا 995 ملین ڈالر کا حصہ بھی شامل ہے ، پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی اور خوشحالی کی نئی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے اسد قیصر نے کہا کہ وز یراطلاعات نے حقائق کو مسخ کیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہوزرا گیس اوربجلی کے بلز خود ادا کرتے ہیں، رکن اسمبلی جمال خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بہترین بجٹ ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں جو بڑی کامیابی ہے ، بجٹ میں بلوچستان کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں، پی ٹی آئی کے شاہد خٹک نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بلز زیادہ آرہے ہیں، پٹرول 450 روپے لٹر عوام کو مل رہا ہے ، تبدیلی کا ڈرامہ رچایا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بانی پی ٹی آئی کو قید کر کے حکومت کی تسلی نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالج فراہم کیا جائے ۔پیپلز پارٹی کے حسین طارق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں بی بی فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی کے شکوے نہیں بنتے ، ہر دفعہ ایف بی آر ٹارگٹ پورے نہیں کرتا، ٹیکس کلیکشن کا ٹارگٹ صوبوں کو دے دیا جائے ، لگتا ہے ایف بی آر اب بھی ٹیکس کلیکشن ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے گا۔ عوام کو بے یارو مدد گار نہیں
چھوڑ سکتے ، بجٹ میں صرف اخراجات ہی اخراجات نظر آ رہے ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، لوگوں کو نوکریاں کیسے دیں گے ؟ ۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ وز یراطلاعات نے ایوان میں حقائق کو مسخ کیا اور غلط بیانی کی۔ کیا آئی ایم ایف کو جو خط لکھا گیا وہ آپ نے پڑھا ہے ؟ ہم نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی، ہم نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ آئیں بحث کریں کہ ہم نے کتنا قرض لیا اور آپ نے کتنا قرض لیا۔ ایک ایسا شعبہ بتائیں جس میں آپ نے ریلیف دیا ہو۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ آپ بتائیں آپ کتنی سرمایہ کاری لے کر آئے ہیں؟۔اسد قیصر نے کہا کہ 90 ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ملک چھوڑ دیا، بے روزگاری بڑھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ، وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 9ماہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہیں کیا گیا، یہ اب فسطائیت کی بات کرتے ہیں،ہم نے جیلیں دیکھیں، خواجہ آصف، شہباز شریف، نواز شریف، مریم نواز نے جیل دیکھی، حمزہ شہباز، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ نے بھی جیل دیکھی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، ان کی فسطائیت اور جمہوریت کا چہرہ پوری قوم نے دیکھا، ہم بجٹ پر تقریر کر رہے ہیں بات حقائق پر ہونی چاہئے ، ایک وہ وقت تھا جب یہ آپ کی سیٹ پر بیٹھے ہوتے تھے ، ہم ان کے پاس پروڈکشن آرڈر کے لئے جاتے تھے ، پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوتے تھے ۔اس پر اسد قیصر نے کہا کہ میں نے آپ کا بھی پروڈکشن آرڈر جاری کیا ، خواجہ آصف کا بھی کیا، کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم مانتے ہیں ہر دور میں مداخلت ہوتی رہی ہے ، اب وقت آگیا ہم اپنی سپیس واپس لیں اور آگے بڑھیں ،پٹرولیم کی حالیہ قیمتوں سے ایک غریب آدمی ذہنی مریض بن گیا ہے ، عامر ڈوگر نے جنوبی پنجاب کے منصوبوں کے حوالے سے گلے شکوے کیے جس پر احسن اقبال نے جنوبی پنجاب کے منصوبے گنوا دیئے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر تھے تب بھی ہم نے میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کی بات کی اور آج حکومت میں ہونے کے باوجود بھی یہی موقف برقرار ہے ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی کی جا رہی ہے ، معاشی تجزیہ کار اس بجٹ پر مثبت بات کر رہے ہیں۔ بعض اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھی مثبت تجاویز سامنے آئی ہیں جنہیں سراہا جانا چاہئے ۔ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا ہے جس کے تحت 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک آمدنی پر صرف ایک فیصد ٹیکس رکھا گیا ہے ، چھ لاکھ روپے سے زائد آمدن والے پروفیشنلز کے حوالے سے بھی ان کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیر قانون و سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزرا اپنے گیس اور بجلی کے یوٹیلیٹی بلز خود ادا کرتے ہیں، وزرا کو 400 لٹر پٹرول ملتا تھا جو بچت اقدامات کے تحت کم کرکے پہلے ہی 200 لٹر کردیا گیا ہے ،200 لٹر پٹرول کے علاوہ وزرا کوئی چیز نہیں لے رہے ۔ جے یو آئی (ف) کی شاہدہ اخترعلی نے کہاکہ ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو بڑھائے ۔یہ روایتی بجٹ ہے ۔ سپر ٹیکس کو تو ختم کردیا ہے لیکن اس سے غریب کو کیا ملا۔
ایم کیو ایم کے سید وسیم حسین نے کہاکہ کراچی شہر میں پینے کا پانی نہیں ۔ ٹینکر سے مل رہا ہے ۔ پی ٹی آئی کے عمیر نیاز ی نے کہاکہ جو آئی ایم ایف کا پروگرام ہے وہ پارلیمان کے سامنے کبھی نہیں آیا۔انکم ٹیکس ایکٹ اس ایوان کو بنانا چاہیے ۔ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ حکومت اس وقت پٹرول پر117 روپے فی لٹر لیوی وصول کر رہی ہے جس سے سالانہ 1700 ارب روپے اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ اس لیوی کو فوری طور پر 50 روپے کی سطح پر لایا جائے ۔ مسلم لیگ (ن) کی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ایسا بجٹ اور اقدامات تجویز کیے ہیں جس سے عوام کو زندگی کی نئی امید ملے گی اور مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔ شمائلہ رانا نے کہاکہ پاکستان کی معیشت 452 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ۔ہم نے ٹیکس میں ریلیف دیا ہے ۔ مہیش کمار نے کہاکہ بجٹ میں این ایف سی کو نہیں چھیڑا گیا یہ پیپلز پارٹی کی کامیابی ہے ۔ پیپلزپارٹی کی شاہدہ رحمانی نے کہاکہ اس بجٹ میں انسانی حقوق کے لئے ایک پیسہ نہیں رکھا گیا۔ رکن اسمبلی جمال احسن نے کہاکہ یہ بجٹ اشرافیہ کا بجٹ ہے ۔میانوالی کے عوام سے انتقام لیا جا رہا ہے ۔میانوالی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال قائم کیا جا رہا تھا اسے ختم کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ میانوالی میں مریض ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ میانوالی کے کالجز میں 95 فیصد سٹاف کم ہے ۔ شاندانہ گلزار نے کہاکہ یہ بجٹ عوام کا نہیں بلکہ اشرافیہ کا بجٹ ہے ۔ صاحبزادہ امیر سلطان نے کہاکہ حکومت نے عوام کش بجٹ پیش کیا ہے ۔ عبدالقادر گیلانی نے کہاکہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے ۔ بعدا زاں قومی اسمبلی کااجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔