آزادکشمیر کے حالات پر تشویش،ثالثی کاکردار ادا کرنے کو تیار ہیں:حافظ نعیم

آزادکشمیر  کے  حالات  پر  تشویش،ثالثی  کاکردار  ادا  کرنے  کو  تیار  ہیں:حافظ  نعیم

بجٹ میں عوام کیلئے کوئی سہولت نہیں ،حکومت پٹرولیم لیوی ختم، صنعتوں کو سستی بجلی دے :امیر جماعت اسلامی عوام کو ریلیف نہ دیاگیا تو سڑکیں جام کرنے سمیت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا:پریس کانفرنس

لاہور،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پوری قوم کو آزاد کشمیر کے حالات پر تشویش ،جماعت اسلامی آزاد کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ، تشدد سے حکومتی رٹ قائم کرنا مسئلے کا حل نہیں، حکومت اور آزاد کشمیر کی قیادت سے رابطہ کروں گا تاکہ مسئلے کا حل نکالا جاسکے ،ملک میں آئی ایم ایف کے احکامات پر بنائے گئے بجٹ میں عوام کیلئے کوئی سہولت نہیں ،حکومت پٹرولیم لیوی ختم، صنعتوں کو سستی بجلی دے ،بجٹ اور عوامی مسائل پر دو روز تک مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نائب امیر میاں محمد اسلم، ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں کو عوامی مسائل کا ادراک نہیں، اس ظالمانہ نظام کے خلاف بہت بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے ، اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو سڑکیں جام کرنے سمیت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں برسوں سے ایک ہی طبقہ حکومت کر رہا ہے اور 79 سال سے یہی نظام عوام پر مسلط ہے ، بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں فارم 47 کا ذکر کیا البتہ وہ یہ بتانا بھول گئے کہ پی پی کو کراچی سے سیٹیں اسی فارم کی وجہ سے ملیں، پی ڈی ایم جماعتوں میں محض نورا کشتی چل رہی ہے ، یہ سب عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ حکمران آئی ایم ایف کے اہداف عوام پر بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور براہ راست ظالمانہ ٹیکس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے سوال کیا کہ بجٹ میں کیپسٹی پیمنٹس کم کرنے کے لیے کیا اقدامات تجویز کیے گئے ہیں؟ ،یہ حکومت نااہلی کا شاہکار ہے ،حکومت کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کو سہولت دے ، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں، سرکاری اداروں میں 1300 سی سی سے بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگنی چاہیے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تعلیم کیلئے صرف 0.8 فیصد بجٹ مختص کیا گیا جبکہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ،اس بجٹ میں عام آدمی اور غریب طبقے کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔ اگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کامیاب ہوتا تو غربت میں اضافہ نہ ہوتا، پنجاب میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ایف بی آر میں سالانہ 1200 سے 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے لیکن اس کے خاتمے کے بجائے عوام پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں